منگل، 8 ستمبر، 2020

اللہ کی ماننے والی اُمّت کی عظمت

خالقِ کائنات نے حضرتِ انسان کی تخلیق کے  واسطے حضرت جبرائیلؑ کو مٹی لانے کے لیےکہا  پھر حضرت میکائیلؑ کو حکم دیا پھر حضرت اسرافیلؑ کو حکم دیا اور پھر حضرت عزرائیلؑ کو حکم دیا اور جب حضرت عزارئیلؑ مٹی لینے آئے تو حضرت عزرائیلؑ کے سامنے پہلے بھیجے گئے فرشتوں کیطرح مٹی نے گڑگڑانا شروع کر دیا،آہ و زاری کرنا شروع کر دی اور عرض کرنے لگی کہ جب حضرتِ انسان کو تخلیق کیا جائے گا تو یہ زمین پر فساد پھیلائے گا تو حضرت عزرائیلؑ نے مٹی سے کہا  اےمٹی!تُجھے دیکھوں کہ اپنے رب کے حکم کو دیکھوں اور جب حضرت عزرائیلؑ مٹی لے کر اللہ تعالٰی کے پاس گئے تو عرض کی کہ باری تعالٰی تیرا حکم تھا اس لیے مٹی کی چیخ و پُکار کے باوجود میں مٹی لے آیا۔
جب خدائے بزرگ و برتر نے حضرتِ انسان کو تخلیق کیا تو اُس سے قبل"سجدہ"صرف اور صرف اللہ تعالٰی کو ہی کیا جاتا تھا جبکہ حضرت آدمؑ کی تخلیق کے بعد خدائے بزرگ و برتر نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمؑ کو سجدہ کریں تو ابلیس کے علاوہ تمام فرشتوں نے حکمِ الٰہی کو مانااور وہ سجدے میں گر گئے جبکہ ابلیس نے حضرت آدمؑ کے"پیکرِ خاکی" کو دیکھا اور اللہ کے حکم کو نہ دیکھا وہ کہنے لگا کہ میں تو اس مٹی سے بہتر ہوں اور اسکی نافرمانی کے سبب اللہ تعالٰی نے اسے ملعون قرار دے دیا کیونکہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے حکم کے سامنے کیوں؟۔۔۔اگر اور مگر کی کوئی گنجائش نہیں ہے گویا اللہ و رسول ﷺ کے حکم کے سامنے انسان کو اپنی ذات کی نفی کر دینا پڑتی ہے،اسے تمام نفسانی خواہشات کی  نفی کرتے ہوئے خدا تعالٰی کے فرمان پر عمل پیرا ہونا پڑتا ہے،اسے دنیاوی چاہتوں کو پسِ پُشت ڈال کر اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی چاہت کے رنگ میں خود کو رنگ لینا پڑتا ہے۔ حضرتِ انسان اگر تاجر ہے تو اُسے حکمِ الٰہی کے مطابق معاملات نمٹانا  پڑتے ہیں، اگر وہ کاروبار کر رہا ہے تو اُسے حکمِ الٰہی کی پیروی کرنا ہو گی،اگر وہ مالک ہے تو حکمِ الٰہی کے مطابق اپنے ماتحتوں کا خیال کرنا ہو گا،اگر وہ ماتحت ہے تو حکمِ الٰہی کے مطابق اپنے مالک کے ساتھ وفا نبھانا ہوگی،اگر وہ بھائی ہے تو اُسے"بھائی چارے" کے جذبے کو پروان چڑھانا ہو گا،اگر وہ باپ ہے تو حکمِ الٰہی کے مطابق اُسے اپنی اولاد کی تربیت کرنا ہوگی اور اگر وہ حکمران ہے تواُسے حکمِ الٰہی کے مطابق اپنی رعایا کا دھیان رکھنا ہوگا۔
انسان ہونے کی حیثیت سے ہمیں اس حقیقت کو مکمل یکسوئی سے سمجھنا ہوگا کہ ہمارا دین ہمارے 'مزاج" کے مطابق نہیں ہے بلکہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق ہے،ہمارے سجدے ہمارے مزاج کے مطابق نہیں  بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ہونے چاہییں،ہمارے رکوع اپنے مزاج کے مطابق  نہیں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ہونے چاہییں،ہمارے قیام ہمارے مزاج کے مطابق نہیں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ہونے چاہییں،ہمیں قربانیاں اپنے مزاج کے مطابق  نہیں بلکہ اللہ کے حکم کےمطابق "سنتِ ابراہیمی" پر عمل پیرا ہوتے ہوئےادا کرنی چاہییں،ہمیں مناسکِ حج کی ادائیگی کے لیے اپنےمزاج کونہیں بلکہ حکمِ الٰہی کو پیشِ نظر رکھنا چاہیئے اور ہمیں اس امر سے آگاہ رہنا چاہیےکہ ہماری عبادات میں خشّوع حضّوع کا"لُطف و کرم" اُسی وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنی عبادات کی ادائیگی اپنے مزاج کے مطابق نہیں بلکہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق کرتے ہیں۔
       ہمیں زندگی کے ہر ہر مُعاملہ میں اس امر کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیئے کہ ہم صرف اللہ کو ماننے والے نہیں ہیں بلکہ ہم تو اللہ کی ماننے والے ہیں کیونکہ ہمیں اس حقیقت کا مکمل طور پر احساس ہے کہ جو مالک ہماری خیر چاہنے والا ہے اُسی کے حکم کو ماننے میں ہی ہماری خیر ہے،جو مالک ہما را بھلا چاہنے والا ہے اُسی کے حکم کے مطابق چلنے میں ہماری بھلائی ہے،جو مالک ہمارا خیر خواہ ہے اُسی کے کہنے پر چلنے میں ہماری خیرخوائی ہےاور جس مالک نے ہمیں اپنے محبوب حضرت مُحمَّد ﷺ کو ہمارے لیے بہترین نمونہ بنا کربھیجا اور ہمیں آپ ﷺ کی اُمت میں شامل کرکے ہم پر احسانِ عظیم کر کے آپ ﷺ کے اسوِء حسنہ پر چلتے رہنے کا حکم دیا ہے اُسی کا حکم ماننے میں ہماری نجات ہے۔
ہم سب اہلِ ایمان کے لیے یہ بہت بڑی خوش قسمتی ہے کہ ہم ایسے رسول ﷺ کے اُمّتی ہیں کہ جنہوں نے زندگی کے ضابطے صرف بتائے ہی نہیں بلکہ پہلے اُن ضابطوں پر خود عمل کرکے دکھایا،آپ ﷺ نے"صفائی نِصف ایمان ہے"صرف کہا نہیں بلکہ بیمار بُڑھیا کے گھر میں صفائی کرنے سے بھی گریز نہ کیا،آپ ﷺ صرف خود پاکیزہ نہ رہے بلکہ آپ ﷺ نے بُرائیوں سے لبریز مُعاشرے کو پاکیزگی سے نواز دیا،آپ ﷺ صرف خود صادق نہ رہے بلکہ تمام عرب مُعاشرے میں صدق و سچائی کا نُور بکھیر دیا،آپ ﷺ صرف خود امانتدار نہ رہے بلکہ پورے مُعاشرے کو امانتداری کے اسباق اَزبر کروا دیئے،آپ ﷺ نہ صرف خود تعصّب سے بچے بلکہ پورے معاشرے سے تعصّب کی بیخ کنی کر دی،آپ ﷺ نے نہ کبھی کسی کا حق سلب کیا اور نہ کسی کو حق سلب کرنے دیا،آپ ﷺ نے کسی سے ناانصافی کی اور نہ ہی کسی کو کسی سے ناانصافی کرنے دی،آپ ﷺ نے کسی پر ظلم کیا اور نہ ہی کسی پر ظُلم ہونے دیا اور آپ ﷺ  نے اس ازلی و ابدی حقیقت کو اپنے قول و فعل سے ثابت کیا کہ آپ ﷺ تمام جہانوں کے لیے رحمت ہیں اور ہم سب اُمّتیوں کے لیے اس لیے بھی عظیم ترین رحمت ہیں کہ آپ ﷺ باعثِ تخلیقِ کائنات ہیں،آپ ﷺ عظمتوں سے نوازنے والے ہیں،عظیم ترین شانوں سے نوازنے والے ہیں اور ہم اُمّتی بھی آپ ﷺ کی ماننے والے ہیں ،ہم بنی اسرائیل کی طرح نافرمانی کرنے والے نہیں ہیں بلکہ ہم تو اپنے اُن"اکابرین" کے ساتھ مُنسلک ہیں جنہوں نے حضور ﷺ کے بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف مُنہ موڑنے پر آپ ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے اپنا مُنہ نماز کے دوران خانہ کعبہ کی طرف مُنہ موڑ لیا تھا،ہمیں یقینََا احساس ہے کہ خدائے بزرگ وبرتر نے اپنے محبوب حضرت مُحمَّد ﷺ کی شان تمام انبیائے اکرام سے بلند رکھی ہے اور آپ ﷺ کی اُمّت کی"عظمت وشان" بھی باقیماندہ اُمّتوں سے اتنی بلند رکھی ہے کہ"قیامت کے دن" سابقہ اُمّتوں کے ایمان کی گواہی آپ ﷺ کی اُمَّت ہی دے گی اور خدائے بزرگ وبرترکا فرمان ہے کہ:۔
"میں نے اپنے محبوب ﷺ کی اُمّت کو سابقہ  اُمَّتوں کے ایمان کی گواہی دینے کااعزاز اپنے محبوب حضرت مُحمَّد ﷺ کی خاطر دیا ہے۔"
 پھر اسکے بعد خدائے بزرگ وبرتر اپنے محبوب ﷺ سے مُخاطب ہوں گے اور فرمائیں گے کہ:۔
"اب اے میرے محبوب ﷺ آپ ﷺ ساری کائنات کے ایمان کی گواہی دیں۔"  
ہم سب "اہلِ ایمان" کو اس امر کا یقینََا احساس ہے کہ ہم عظمتوں والے خدا کے بندے ہیں،شانوں والے مُصطفٰے ﷺ کے اُمّتی ہیں اور ہمارے لیے ہر اچھی بات ہلکی ہوا کرتی ہے،اذان ہونے پر ہمارے سینوں میں تسکین کی لہر دوڑ جاتی ہے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے ہر ہر حکم پر عمل کرتے ہوئے ہمیں روحانی اطمینان ملتا ہے اور ہمارے گردا گرد ماحول میں ہر طرف برکتیں ہی برکتیں اور رحمتیں ہی رحمتیں جلوہ گر دکھائی دیتی ہیں۔خدائے بزرگ وبرتر ہم سب مسلمانوں کو اپنے اور اپنے محبوب حضرت مُحمَّد ﷺ کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے! آمین!ثُم آمین!
ِِِِِ
 
ٌٌٌ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

انسانی کردار کی تشکیل

خُدائے بزرگ و برتر نے اس جہانِ فانی میں حضرتِ انسان کو تخلیق کیا ہے اور ہر انسان کو یہاں اپنی زندگی کے "گِنے چُنے " دن گزار کے ...