پیر، 14 ستمبر، 2020

حضرت خواجہ مُعین الدّین چشتیؒ

اِس کائنات کے خالق و مالک نے اپنے پاک محبوب حضرت مُحمَّد ﷺ کے ذریعے دینِ اسلام کو پائیہِ تکمیل تک پہنچایا اور آپ ﷺ پر نبوّت کے سلسلہ کو بھی ختم کر دیا نیز دینِ اسلام کی تعلیمات قیامت تک آنے والے انسانوں تک پہنچانے کے لیے اپنے نیک بندوں کو اس کائناتِ ارضی میں بھیجنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا جو اِن تعلیمات کو تمام انسانوں تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں گے۔ اللہ کے یہ نیک بندے دنیا کے کسی بھی خِطّہ میں چلے جائیں تو انکی موجودگی اپنے گردا گرد علاقوں میں دیگر انسانوں کے لیے باعثِ رحمت ہوا کرتی ہے اور وہ اُنکی زندگیوں میں آسانیاں بکھیرتے ہیں،دینِ اسلام کی تعلیمات سے آگاہی دیتے ہیں،اُن تعلیمات پر خود بھی عمل کرتے ہیں اور دیگر احبابِ معاشرہ کو بھی عمل پر آمادہ کرتے ہیں اور اپنی اس مجاہدانہ زندگی میں پیش آنے والی تکالیف و مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں۔

دینِ اسلام کی سربلندی و سرفرازی کی خاطر خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے بھیجے گئے ایسے نیک بندوں کی معرکہ آرائیاں عام طور پر اُس زمانہ کے حکمرانوں کے ساتھ ہی ہوا کرتی ہیں کیونکہ حاکمِ وقت اکبر بادشاہ کی مانند اپنے حکم کو ہی "حکمِ اعلٰی" سمجھا کرتے ہیں جبکہ اللہ کے ولی حکمِ الٰہی کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بناتے ہوئے اس جہانِ فانی میں حیاتِ ناپائیدار گزارنے کے عادی ہوا کرتے ہیں،"حاکمِ وقت" اپنی بات کو ہی اسلام کی بات بنانے پر بضد ہوا کرتے ہیں جبکہ اللہ کے ولی اللہ اور رسولﷺ کی بات کو ہی اسلام کی بات ثابت کرنے کے لیے شب و روز کوشاں و سرگرداں رہا کرتے ہیں۔

خدائے بزرگ وبرتر نے اپنے اس جہانِ فانی میں اچھائی و بُرائی کو،نیکی و بدی کو،اندھیرے و اُجالے کو،روشنی و تاریکی کو،سچ و جُھوٹ کو اعلٰی ظرفی و کم ظرفی کو ساتھ ساتھ رکھا ہے۔اُس پاک ذات نے اگر فرعون کو تخلیق کیا تو حضرت موسٰیؑ کو بھی مبعوث فرمایا،نمرود کو اس کائناتِ ہستی میں تخلیق کیا تو حضرت ابراہیمؑ کو بھی اُس کے مقابلے کے لیے سب طاقتوں سے لبریز کرکے بھیجا،یزید کو تخلیق کیا تو حضرت امام حُسین  رضی اللہ تعالٰی عنہُ  کو بھی اس کائنات میں میں تخلیق کیا اگر اکبر بادشاہ کو تخلیق کیا تو اُس کے مقابلہ کے لیے حضرت مجدّد الف ثانی کو بھی اس "کائناتِ ہستی" میں بھیج دیا اور خدائے بزرگ وبرتر کی طرف سے تخلیق کردہ تمام نیک،متّقی و پارسا ہستیوں نے دینِ اسلام کی حفاظت و ترویج کی خاطر اپنی فانی زندگیوں کو اللہ کے دین کی سرفرازی کے لیے قربان کر دیا۔ 

 خدائے بزرگ وبرتر نے خواجہ مُعین الدّین چشتیؒ کو ہندوستان میں عظیم ترین فریضہِ اشاعتِ"دینِ اسلام" کے لیے مُنتخب کیا۔ حضرت خواجہ مُعین الدین چشتیؒ تخلیقِ پاکستان سے تقریبََا 800 سال قبل ہمارے آقا و مولا حضرت مُحمَّد ﷺ کے فرمان کے مطابق اجمیر شریف تشریف لائے تو وہاں تقریبََا ہر ہر گھر میں بُت تھے،وہاں کے باشندے بُتوں کی پوجا پاٹ میں مشغول رہا کرتے تھے،وہاں کے راجہ و مہاراجہ انسانوں کے ساتھ ظلم و ستم کرتے رہنے کے رسّیا تھے ،ہر ہر طرف جہالت کا دور دورہ تھا اور جہالت کے ایسے تاریک ماحول میں خواجہ مُعین الدین چشتیؒ نے دینِ اسلام کے چراغوں کو ہر سُو جلانے کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے 90 لاکھ لوگوں کو دائرہِ اسلام میں شامل کرنے کا عظیم ترین کارنامہ سرانجام دیا۔ 

آپؒ نے اجمیر شریف پہنچ کر یہاں کے اندھیروں کا مقابلہ نہ کیا، یہاں کی تاریکیوں سے نبرد آزما نہ ہوئے، یہاں کے الحادی ماحول کے پنجوں میں پنجے نہ ڈالے،یہاں کے کفر سے محاذ آرائی نہ کی بلکہ ظلمتوں کا شکوہ کرنے کی بجائے دینِ اسلام کے چراغ جلاتے جلاتے پورے ماحول کو چراغاں کرتے چلے گئے۔

خواجہ مُعین الدین چشتیؒ جب اجمیر تشریف لائے تو جس مقام پر آکر آپؒ قیام پزیر ہوئے،وہاں کے راجہ نے کہا کہ یہاں تو میرے اونٹ بیٹھا کرتے ہیں،آپؒ نے فرمایا کہ اگر یہاں تمھارے اونٹ باندھے جاتے ہیں تو پھر ہم یہ جگہ تمھارے اونٹوں کے لیے spare کر دیتے ہیں

اس مسلّمہ حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ روحانی طاقت ہمیشہ مادّی طاقت سے زیادہ ہوا کرتی ہے کہ جب راجہ کے اونٹ وہاں بیٹھے تو پھر وہ اُٹھ نہ سکے وہاں کا راجہ حیران و پریشان ہوا آپؒ نے فرمایا کہ یہ جگہ میرے نبی ﷺ نے میرے خدا کے حکم سے میرے لیے وقف کی ہے۔

راجہ نے اپنی رعایا سے آپؒ کی عبادت و ریاضت کے طور طریقے دریافت کیے تو رعایا نے جواب دیا کہ آپؒ اپنے خالق و مالک کے حضور سجدہ ریز ہونے سے قبل پانی سے وضو کیا کرتے ہیں تو راجہ نے آپؒ کے لیے پانی کو بند کروا دیا لیکن آپؒ نے وضو کی بجائے تیمَّم کرکے اپنی نماز کی ادائیگی کا فریضہ سرانجام دے لیا،آپؒ راتوں کو تیل سے چراغ جلایا کرتے تھے تو راجہ نے تیل کی فراہمی بند کردی تاکہ آپؒ اپنے چند عقیدت مندوں کو ساتھ لیکر اندھیرے کے خوف سے خوف زدہ ہو کر یہاں سے چلے جائیں لیکن آپؒ نے اپنے عقیدت مندوں سے فرمایا کہ میرے وضو کئے گئے پانی کو چراغوں میں ڈال کر،چراغوں کو جلا کر اندھیروں کو اُجالوں میں بدل لیا کریں۔خواجہ مُعین الدین چشتیؒ کو خدائے بزرگ وبرتر نے تبلیغِ دین کا جو فریضہ سونپا آپؒ نے اس فریضہ کی ادائیگی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

آپؒ نے اپنے"آخلاقِ کریمہ" کی بدولت ذات پات کے فرق کو مٹا دیا،اعلٰی و ادنٰی کے تضاد کو ختم کر دیا،گورے اور کالے کی تقسیم کو نابود کر دیا،عربی و عجمی کے جھگڑوں کو ختم کر دیا،اُونچ اور نیچ کے درجوں کو ختم کر دیا،جُھوٹ اور سچ کے پیمانوں کو الگ الگ کردیا نیز بڑے و چھوٹے کے فرق کو مٹاتے ہوئے اس مسلّمہ حقیقت کو ثابت کر دیا کہ اللہ کے ولی کا وجود تمام مخلوقات کے لیے باعثِ رحمت و برکت ہوا کرتا ہے اور ایسے ہی اللہ کے ولی و صوفیائے اکرام ہم مسلمانوں کے حقیقی ہیرو ہوا کرتے ہیں اور ہمارے یہ ہیرو معاشرے میں موجود ہر طرح کی بُرائی کا خاتمہ کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھتے ہیں اور دینِ اسلام کی تعلیمات پر خود عمل کرتے ہوئے دیگر افرادِ معاشرہ کو دینِ اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرکے اُنکو اپنی زندگیاں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزارنے کی تلقین کرتے ہیں اور بِفضلہٖ تعالٰی قیامت تک "توفیقِ خُداوندی" سے کفر کے اندھیروں کو مٹانے والے اللہ کے نیک بندے آتے ہی رہیں گے۔ انشااللہ!                                                                                                           ہُ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

انسانی کردار کی تشکیل

خُدائے بزرگ و برتر نے اس جہانِ فانی میں حضرتِ انسان کو تخلیق کیا ہے اور ہر انسان کو یہاں اپنی زندگی کے "گِنے چُنے " دن گزار کے ...