اتوار، 30 اگست، 2020

مُسلمان۔۔۔ جو مسیحا تھے کبھی


 خُدائے بزرگ و برتر نے حضرتِ انسان کو بے شمار خوبیوں سے نواز رکھا ہے نیز ہر انسان کو انفرادی طور پر کوئی نہ کوئی ایسی خوبی بھی عطا کی ہوئی ہے جو دیگر افراد سے منفرد ہوا کرتی ہے اور انسان اس خوبی کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کائناتِ ارضی میں منفرد قسم کے کارنامے سرانجام دیتا ہے جو اُسے دیگر افرادِ معاشرہ سے ممتاز کرتے چلے جاتے ہیں اور وہ شہرت کی بلندیوں پہ پہنچ کر اعلٰی مقام کا حامل ہو جاتا ہے بلاشبہ اسکی شہرت بعض اوقات زندگی کے کچھ معاملات میں اس کے لیے کمزوری کا پہلو بنتی ہے لیکن اکثر اوقات اسکی شہرت نہ صرف اس کی ذات کو بلکہ اکثر بنی نوع انسان کو بے شمار فوائد سے ہر ہر لمحے نوازتی چلی جاتی ہے اور وہ انسان"عظیم ترین" کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ 

تاریخ انسانی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ سے ہی خُدا تعالٰی کی عطا کردہ خوبیوں کا بھر پوراظہار کرتے رہے ہیں اورآج بھی اگر ہم رپورٹس کا مطالہ کریں تو  اس حقیقت سے آشنا ہوتے ہیں کہ اس دنیا میں 10 بہترین ڈاکٹرز میں سے 7 کا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ مسلمان ہیں لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ وہ سب کے سب برطانیہ اور امریکہ میں انسانیت کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں جبکہ وطنِ عزیز میں عوام الناس انکی اعلٰی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے سے محروم ہیں بلاشبہ وطنِ عزیز میں خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹرز حضرات اپنے شعبہ میں بھر پور مہارت  رکھتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ نے اپنے اس مقدس پیشے کو مال و دولت    جمع کرنے کا وسیلہ بنا کر مسیحائی کے معانی بگاڑ دیئے ہیں،ہمارے ہاں عدلیہ کے نظام میں میں بھی کئی مقامات پرکرپشن کا ناسور مل رہا ہے،انصاف کی "داغ بیل" ڈالنے والے ادارہ کے فیصلوں کے سبب ناانصافی اور ظلم پر مبنی بے شمار داستانیں وطنِ عزیز کے سماج میں بکھری ہوئی ملیں گی،رشوت لے کر مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم ثابت کر دیا جاتا ہے،قاتل کو مقتول اور مقتول کو قاتل ثابت کر دیا جاتا ہےاور حق دار کو حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

شعبہِ تعلیم و تربیت بھی ہمارے ہاں شدید ترین بگاڑ کا شکار ہے،شرح خواندگی کے اندازوں کے مطابق ہمارا وطنِ عزیز 200 ممالک میں سے 159ویں درجے میں آتا ہے حالانکہ ہم اس ملک کے باشندے ہیں جن کا ایمان اِقرا بِااِسمِ رَبِّکَ الَّذِی ایسے ازلی و ابدی کلمے پر ہے جن کا یقین  ہے کہ اس مادی دنیا کی کامیابی کی خاطر اور اُخروی دنیا کی فلاح کی خاطر علم کو جس طرح حاصل کرنے کا حق ہے اسے حاصل کیا جائے نیز جنکو اس ازلی حقیقیت سے بھی بخوبی آشنائی ہے کہ عرفانِ ذات کی خاطر اور عرفانِ الٰہی کی خاطر علم حاصل کرنا نہایت ضروری ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ تعلیم کے شعبہ کو انڈسٹری میں تبدیل کر دیا گیا مُحترم و مکّرم اساتذہ صرف اور صرف مال جمع کرنے کی دُھن میں مگن ہیں،انہیں بچوں کے کردار بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے،بچوں کی شخصیات کے اندر موجود بگاڑ کو سنوارنے کے لیے وہ کسی قسم کا بھی کردار ادا کرنے سے متعلق مکمل طور پر بے خبر ہیں بس معلومات فراہم کی جا رہی ہیں اور کردار کی تعمیر سے متعلق لا پرواہی برتی جا رہی ہے۔ کچھ تعلیمی ادارے مختلف مدّات میں والدین سے روپیہ بٹورنے میں مصروف ہیں اور قابلِ افسوس پہلو یہ بھی ہے کہ اس تمام"بگاڑ کے حل" کے واسطے کوئی پُرسانِ حال بھی نہیں ہے ۔

وطنِ عزیز کی سیاست کو جاننے کی کوشش کریں تو ہمیں ہر طرف ایسے ایسے دعوے دار ملیں گے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہا یہ جاتا ہے کہ"میں سیاست کو عبادت سمجھتا ہوں،میں سیاست کو عام آدمی کی فلاح کا نام دیتا ہوں،میں سیاست کو امانت سمجھتا ہوں،میں سیاست کو سچائی پر مبنی حقیقت سمجھتا ہوں اور میں سیاست میں اسی لیے آیا ہوں کہ اپنے عوام کی خدمت کروں اور اپنے وطن کی حُرمت و عظمت کی خاطر اپنا تَن،مَن اور دَھن قربان کر دوں گا"لیکن اس تصویر کا دوسرا تلخ پہلو یہ ہے کہ وطنِ عزیز میں سیاست لوٹ مار اور قتل و غارت گری کا نام بن چکا ہے،مال و دولت اکٹھی کرنے کا نام سیاست رکھ دیا گیا ہے،دوسروں کے حقوق غصب کرنے کا نام سیاست بن چکا ہے،غربت کا مذاق اُڑانے،مہنگائی کو وطنِ عزیز میں"کے۔ٹُو" پہاڑ ایسی بلندی تک پہنچانے،دھوکہ دہی مہارت سے سرانجام دینے اور کرپشن سے بھر پور ماحول کو پیدا کرنے اور اس کرپٹ ماحول سے بھر پور استفادہ کرنے کا نام سیاست بن چکا ہے اور ثانی الذّکر تمام"عوامل" اپنی شہرت سے حاصل کردہ طاقت و منصب" کے اختیارات کو صرف اور صرف اپنے ہی مفاد کے لیے استعمال کرنے کا نام سیاست بن چکا ہے۔

وطنِ عزیز میں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ تمام شُعبے جن کا تعلق انسانوں کی مسیحائی سے ہے شائید وہ ہم مسلمانوں کے لیے اَن فِٹ ہو چکے ہیں یا ہم مسلمان اِن شعبوں کے لیے مِس فِٹ ہو چکے ہیں۔ حالانکہ مسیحائی کے تمام شعبے ہم مسلمانوں کے لیے ہی مخصوص ہوا کرتےتھے اور اب بھی مخصوص ہونے چاہییں کیونکہ ہم مسلمان ہیں اور ہم اس دینِ اسلام کے پیروکار ہیں کہ جس عظیم ہستی حضرت مُحمّد مُصطفٰےﷺ نے یہ دین ہم تک پہنچایا ہے اُنہوںﷺ نے ہر ہر لمحے صرف مسلمانوں کی ہی نہیں بلکہ تمام "انسانیت" کی مسیحائی کی اور انسانیت کی بھلائی کی خاطر طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کیا اور ہم تک ایسا "نظامِ حیات" پہنچا دیا کہ اگر ہم سب مسلمان اس نظامِ حیات کا خلوصِ نیت سے مطالعہ کر کے اس پر عمل کرنا شروع کر دیں تو ہمارا ہر ہر لمحہ فلاح و بہبود کی طرف گامزن ہوتا چلا جائے گا کیونکہ ہم مسلمانوں کا "نظامِ حیات" ایسے اوامر سے آگاہی دیتا ہے کہ ایک استاد تعلیم و تربیت کرکے نہ صرف روزی کماتا ہے بلکہ وہ پیغمبرانہ فرائض کی ادائیگی کر رہا ہوتا ہے اسی طرح اگر ہمارے ڈاکٹرز، ہمارے بینکرز،ہمارے بیوروکریٹس،ہمارے سیاستدان،ہمارے حکمران اور دیگر شعبوں کے سربراہان اور ہم سب عوام اس حدیثِ مُبارکہ کے مفہوم کو شعوری طور پر سمجھ کر عمل پیرا ہو جائیں کہ"تُم میں سے ہر شخص راعی ہے اور وہ اپنی رعایا سے متعلق جواب دہ ہے"تو پھر مِن حیثُ القوم مسیحائی کی ادائیں سیکھ جائیں گے،انسانی فلاح و بہبود ہمارا وطیرہ بن جائے گا اورہمارا وطنِ عزیز دن دگنی،رات چوگنی ترقی کرتا چلا جائے گا اور ہر ہر پاکستانی خوشحالی اور امن و سکون والی زندگی گزارنے کے قابل ہو جائے گا۔  انشااللہ


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

انسانی کردار کی تشکیل

خُدائے بزرگ و برتر نے اس جہانِ فانی میں حضرتِ انسان کو تخلیق کیا ہے اور ہر انسان کو یہاں اپنی زندگی کے "گِنے چُنے " دن گزار کے ...