بدھ، 26 اگست، 2020

شہا د تِ حُسین رضی اللہ تعالیٰ عنہُ ۔۔۔ د رسِ رضائےالٰہی | شبیر احمدعظیم

دینِ اسلام ہم سب انسانوں کے لیے قیامت تک مُکمل ضابطہِ حیات ہے اور ہمارے اس مذہب کی تکمیل ہمارے آقا و مولا حضرت مُحمَّد ﷺ نے 23 سال کے مختصر عرصہ میں کر دی۔ آپ ﷺ نے اپنی بیان کردہ الہامی تعلیمات پر پہلے خود عمل کیا اور پھر ایسے ایسے بے مثال کرداروں کی تشکیل کی کہ جن کی بدولت دینِ اسلام کی عظمت و شوکت کو خُدائے بزرگ و برتر نے چار چاند لگا دیے۔ آپ ﷺ کے تیار کردہ کرداروں کی حامل شخصیات نے دینِ اسلام کی شان بڑھانے کے لیے طرح طرح کی قربانیاں دیں،انہوں نے اپنے جذبات قربان کیے،مال و دولت قربان کیے،عزیز و اقارب قربان کیے،دنیاوی مقام و مرتبے قربان کیے،آرام و سکون قربان کیے اور دینِ اسلام کی عظمت بڑھانے کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دینے سے گریز نہ کیا اور ان سب شخصیات کی قربانیاں اپنا اپنا مقام رکھتی ہیں لیکن جو قربانیاں نواسہِ رسول ﷺ حضرت امام حُسین رضی اللہ تعالیٰ عنہُ  نے  اپنے نانا ﷺ کے دین کو بچانے کے لیے دیں انکی مثال نہ تو اس سے قبل کسی انسان نے دی اور نہ ہی قیامت تک اس کی مثل کوئی قربانی دے سکے گا۔ حضرت امام حُسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہُ  نے باطل کے سامنے اپنا سر جُھکایا نہیں،بلند رکھا انکی قربانی کچھ ایسی قربانی ہے کہ جس کا سُن کر،پڑھکر، یا سوچ کر ہر ذی شعور کا کلیجہ پھٹ جاتا ہے اور عقل حیران رہ جاتی ہے۔ انہوں نے میدانِ کربلا میں اپنے سمیت 72 جانوں کا خون دینِ اسلام کو دیکر اس ازلی حقیقت کو ثابت کر دیا کہ حق جب آتاہے تو باطل مٹ جاتاہے بلا شبہ باطل مِٹ جانے کے لیے ہی ہوتا ہے۔حق جب باطل کے سامنے ڈٹ جاتا ہے تو پھر اسے نہ تو بھوک کا خوف رہتا ہے،نہ ہی مال کے چِھن جانے کا خدشہ ہوتا ہے،اسے دنیاوی جاہ و حشمت کفر سے ٹکرانے سے روک سکتی ہے اور نہ ہی اسے اسکی جان کے چلے جانے کا ڈر ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب اہلِ یمان حق پر ڈٹ جاتے ہیں تو انکے جسم و جان میں طاقت ور پہاڑوں کی سی ہمت پنہاں دکھائی دیتی ہے،اُن میں سمندر کی بپھری ہوئی لہروں جیسا طوفانی جوش پایا جاتا ہے،اُن میں تیز ہواؤں جیسی تیزی پائی جاتی جس کے سبب اہلِ ایمان اپنےراستےمیں آنے والے ہر طوفان سے ٹکرا جاتے ہیں،وہ جس طرف قدم اُٹھاتے چلے جاتے ہیں کُفر کو سرنگوں کرتے چلے جاتے ہیں اور اُنکے قدموں میں کُفرکا ہر ہر بُت مُنہ کے بل گر پڑتا ہے،بقول علّامہ مُحمد اقبالؒ:۔
دو نیم انکی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ انکی ہیبت سے رائی
معرکہِ کربلا شروع ہونے سے قبل حضرت امام حُسین رضی اللہ تعالیٰ عنہُ نے اپنے تمام ساتھیوں کو فرما دیا تھا کہ یزید اور اسکے خواری صرف میری جان کے دشمن ہیں اور آپ سب چاہیں تو مجھ سے الگ ہو سکتے ہیں اور انشااللہ روزِ محشر آپ سب میرے جانثاروں،میرے ساتھیوں میں ہی جنت میں شامل ہوںگے لیکن قربان جائیں آپ کے جانثاروں پر کہ انہوں نے عرض کی،اے ہمارے آقا!ہمیں ایسی زندگی نہیں چاہیے جو آپ کے بغیر ہو،ہمارا جینا بھی آپ کے لیے ہے اور ہمارا مرنا بھی آپ کی خاطر ہی ہے،آپ کی خاطر ہم ہر طرح کی مُصیبت سے ٹکرا جائیں گے،ہر طرح کی ابتلا کا سامنا کریں گے،ہر قسم کے کرب و بلا سے گزر جائیں گے اور آپ کی فرمانبرداری میں رہتے ہوئے یزیدی لشکر کا بہادری سے مقابلہ کریں گے اور شہادت کے عظیم ترین مرتبے سے سرفراز ہو کر دینِ اسلام کی حُرمت و عظمت کو عروج تک پہنچائیں گے۔ حضرت امام حُسین رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کے جانثاروں نے اپنی وفاؤں کا ثبوت دیتے ہوئے"دُشمنِ اسلام" کی فوج کا بھر پور ہمت سے مقابلہ کیا اور جامِ شہادت نوش کرتے گئے اور تاریخِ انسانی کے عظیم ترین معرکے کو امر کرتے چلے گئے اور پھر وہ وقت آن پہنچتا ہے کہ دینِ اسلام کی بقا کی خاطر عظیم ترین قربانی دینے والی عظیم ترین ہستی رضی اللہ تعالیٰ عنہُ دسویں مُحَرّم کی شب اپنے خیمہ میں موجود ہیں،اپنے ساتھیوں کی قربانیاں دے چکے ہیں،خوبرو علی اکبر کو قربان کر چکے ہیں، ننّھے علی اصغر کے گلے پر تیر کا گھاؤ برداشت کر چکے ہیں اور بڑے اطمینان سے رضائے الٰہی پر راضی رہتے ہوئے قرآنِ پاک کی تلاوت میں اِس طرح غوطہ زن ہیں کہ ارد گرد کے ماحول میں سکون کی لہر دوڑ جاتی ہے،
قُرآن پاک کی تلاوت کے بعد حضرت امام حُسین رضی اللہ تعالیٰ عنہُ نے نمازِ تہجد ادا کی،پھر نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد اپنے بابا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کا لباس پہنا اور اپنے بابا کی تلوار"ذولفقار"لی کہ ہو سکتا ہے کہ یزید کو اس لباس کی"حیا"آجائے لیکن ایسا ناممکن تھا کیونکہ خُدائے بزرگ و برتر کو حضورﷺ کے ذریعے مکمل کیے گئے دینِ اسلام کی عظمت کو کمال عروج تک پہنچانا تھا اور بنی نوع انسان کو اِس ازلی امر سے آگاہ کرنا مقصود تھا کہ عزّت و عظمت کا اصل معیار اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی"رضا"ہے،اِس حقیقت سے آشنا کرنا مقصود تھا کہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی رضا کی خاطر اگر سارے کنبے کی قربانی دینا پڑے تو صدقِ دل سے قربان ہو جایا جائے اور مظلوم بن کر شہادت کے لیے پیش نہ ہوا جائے بلکہ بہادری سے جامِ شہادت نوش کر لیا جائے جس طرح حضرت امام حُسین رضی اللہ تعالیٰ عنہُ نے عین ظُہر کے وقت شمر سے پوچھا کہ وقت کونسا ہے؟اُس نے جواب دیا ظُہر کا،پھر پوچھا کہ دن کونسا ہے؟ تو اُس نے جواب دیا کہ جُمعۃُالمبارک کا دن ہے تو حضرت امام حُسین رضی اللہ تعالیٰ عنہُ نے اس "درندے" سے کہا کہ مساجد میں میرے نانا ﷺ کے لائے ہوئے دین مقّدس کے خُطبات کی آوازیں گونج رہی ہیں لہذٰا مُجھے بھی نماز ادا کرنی ہے اور وہ سجدہ ادا کرنا ہےجس سجدہ کی ادائیگی کے لیے سارا کنبہ بھی قربان ہوا اور خود بھی جامِ شہادت نوش کر لوں گا تاکہ اپنے نانا حضرت مُحمّد ﷺ کی اُمت کو قیامت تک دینِ اسلام پر عمل پیرا ہونے اور اسکی حفاظت کرنے کا درس دیا جا سکے۔ اللہ تعالٰی ہم سب مسلمانوں کو دینِ اسلام کی حفاظت کی خاطر حضرت امام حُسین رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے! آمین!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

انسانی کردار کی تشکیل

خُدائے بزرگ و برتر نے اس جہانِ فانی میں حضرتِ انسان کو تخلیق کیا ہے اور ہر انسان کو یہاں اپنی زندگی کے "گِنے چُنے " دن گزار کے ...