ہفتہ، 22 اگست، 2020

کہاں سے آئے صدا لَا اِلٰہَ اِلاَ اللہ

 خُدائے بزرگ و برتر نے حضرتِ انسان کو تخلیق کیا اور اپنی اِس تخلیق کو اشرف المخلوقات کے منصب پر فائز کر دیا ،اپنی اس مخلوق کے لیے ہر ہر طرف نعمتیں بکھیر دیں اور حضرتِ انسان ان نعمتوں کو اپنی عقل ایسی عظیم نعمت کو استعمال میں لاتے ہوئے بھر پور انداز سے استفادہ کر سکتا ہے،انسان اپنی عقل کی بدولت سوچتا ہے،ارادہ کرتا ہے اور عمل کرتاہےاگر انسان کی سوچ میں تبدیلی آجائے تو اس دنیا میں بے شمار تعمیری کام سرانجام دینے کے لیے ہمارے اردگرد بے شمار آسانیاں بکھری نظر آئیں گی لیکن ایسا اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ اگر ہم انسانوں کی سوچ میں مثبت تبدیلی آئے اور اگر ہماری سوچیں منفی عناصر سے لبریز ہونگی تو پھر  ہمیں ہرطرف بگاڑ،انتشار،کشمکش،پریشانیوں اور الجھنوں ہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

مثبت اور تعمیری سوچ پیدا کرنے کے لیے ہمیں ہمارے گردا گرد تعمیری"ماحول" تخلیق کرنے کی اشد ضرورت ہے اور تعمیری ماحول بنانے کے لیے مِن حیث القوم ہم میں سے ہر ہر فرد کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،اساتذہِ کرام کو اس امر کی خاطر اپنے پیشے کو پیغمبروں کی میراث سمجھتے ہوئے اپنانا ہوگا،انھیں اس حقیقت سے آشنا ہونا ہوگا کہ وطنِ عزیز کے جن بچوں کو وہ تعلیم ایسے زیور سے آراستہ کرنے کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں انھوں نے مستقبل میں ہمارے وطنِ عزیز کی باگ ڈور سنبھالنا ہے،والدین کو بھی ان حقیقتوں سے آگاہ رہنا ہو گا کہ وہ اپنے بچوں کو انھیں مستقبل میں پیش آنے والے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار کر رہے ہیں اور پھر معاشرے کے ہر ہر شخص کو اس حقیقت سے آشنائی رکھنا ہو گی کہ ہمارے گردا گرد وطن کے تمام بچوں کا کردار بنانے میں ہم میں سے ہر ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہے بنا بریں ہم سب کو اجتماعی طور پر،حکومتی سطح پر اور معاشرتی لحاظ سے ہر طرف صحت مند ماحول پیدا کرنا ہے کیونکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ "A sound body has a sound mind"

وطنِ عزیز پاکستان میں شُعبہِ تعلیم و تربیت و صحت کو شروع سے ہی نظر انداز کیا جاتا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ آج علم تو اُٹھ گیا لیکن معلومات رہ گئیں،کردار تو ختم ہو گیا صرف باتیں رہ گئیں،بقول شاعرِ مشرق علامّہ مُحمَّد اقبالؒ گفتار کے غازی ہی رہ گئے ہیں،کردار کے غازی نایاب ہو گئے ہیں تعلیم کے شُعبہ کو انڈسٹری کے طور پر چلایا جا رہا ہے،اسے نِت نئے تجربات کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے،Misfit افراد کے ہاتھوں میں کھلونا بنایا جا رہا ہے،قوم کے نو نہالوں کو جدید ترین میڈیا سے فراہم کردہ تباہ کُن مواد سرِ عام"عام"کرکے تباہی کے دھانوں تک پہنچایا جا رہا ہے اب ایسی صورتِ احوال میں ہماری سوچوں کا مثبت ہونا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہو چکا ہے کیونکہ:۔

گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مکتب نے تیرا

 کہاں سے آئے صدا لَا اِلٰہَ اِلاَ اللہ 

وطنِ عزیز میں جہاں تک صحتِ عامہ کا تعلق ہے تو اس پہلو پر بھی غور کیا جائے تو ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ کھانے پینے کی اکثر چیزوں میں طرح طرح کی ملاوٹ کے عناصر ملیں گے جو انسانی صحت کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتے ہیں،معاشرے میں سبزیاں زہر آلود مل رہی ہیں،پھل زہر آلود مل رہے ہیں،بیکری کی پروڈکٹس موت بانٹ رہی ہیں اور وطنِ عزیز میں تو ظلم کا یہاں تک دور دورہ ہے کہ ننّھے مُنّے معصوم بچوں کے کھانے کی چیزوں میں بھی تیاری کے دوران انکی صحت کو یکسر بُھلا دیا جاتا ہے۔ 

"دورِ حاضر میں ہم انسانوں کی "اکثریت مال پیسہ بنانے کی دُھن میں سر تا پا مگن ہے اور اس اکثریت کواس امر سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ انکی تیار کردہ پروڈکٹس سے عوام الناس  Slow poisoning  کی بھینٹ چڑھ کر موت کی وادی میں گرتے چلے جا رہے ہیں،انہیں نہ تو اپنی غلط کاریوں سے خوف آتا ہے اور نہ ہی انہیں معاشرے کا ڈر ہے،انہیں نہ تو اپنے وطنِ عزیز کی "بے ضرر" Authority" اور  نہ ہی انہیں  خوفِ خدا ہے وہ خدا تعالیٰ  کے پیدا کیے ہوئے بندوں کے ساتھ ظلم و ستم کی انتہاؤں کو پہنچ چکے ہیں وہ اس مال و دولت کو اکٹھا کرنے میں لگے ہوئے ہیں جو انہیں اسی دنیا میں چھوڑ کر چلے جانا ہے اور پھر اسی خالق و مالک کے سامنے پیش ہونا ہے جس نے ہر ہر انسان کی نیکی کے ایک ایک ذرّے کو سنبھال رکھا ہے اور رائی کے برابر بُرائی کو بھی بروزِ قیامت ہر انسان کے نامہِ اعمال کی صورت میں پیش کر دیا جائے گا۔

  ہم میں سے ایسے انسانوں کی "اکثریت" در حقیقت یومِ آخرت  کا سرے سے ادراک ہی نہیں رکھتی ہے اور اگر ہم انسان اس"حقیقت" سے آشنا ہو جائیں کہ ہمیں اپنے مالک کے سامنے"آخرکار" پیش ہونا ہی ہے اور اپنے اچھے اعمال کا صلہ وصول کرنا ہی ہے،بُرے اعمال کی سزا بُھگتنا ہی ہے، اپنے ہی ایسے انسانوں سے کی گئی بد سلوکی،بد عنوانی اور نا انصافی کا جواب دینا ہی ہے تو پھر ہم انسان اپنی زندگی کا ایک ایک پل انسانیت کی بھلائی کے لیے وقف کرتے چلے جائیں گے،امن و امان کی فضا پیدا کرتے چلے جائیں گے،بھائی چارے کے ماحول کو تخلیق کرتے چلے جائیں گے،ہر طرف سلامتی کا نُور پھیلاتے چلے جائیں گے اور وطنِ عزیز کو بُقعہِ نُور بنا کر "جنّت نظیر" بناتے چلے جائیں گے۔انشااللہ           

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

انسانی کردار کی تشکیل

خُدائے بزرگ و برتر نے اس جہانِ فانی میں حضرتِ انسان کو تخلیق کیا ہے اور ہر انسان کو یہاں اپنی زندگی کے "گِنے چُنے " دن گزار کے ...