پیر، 19 اکتوبر، 2020

انسانی کردار کی تشکیل

خُدائے بزرگ و برتر نے اس جہانِ فانی میں حضرتِ انسان کو تخلیق کیا ہے اور ہر انسان کو یہاں اپنی زندگی کے "گِنے چُنے " دن گزار کے "ابدیت" کی طرف چلے جانا ہے۔ اس کائنات میں دورانِ زندگی ہر انسان کو اپنے اپنے حِصّے کا کردار ادا کرتے رہنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالٰی کے تخلیق کردہ اس نظامِ کائنات میں اچھائی و بُرائی ساتھ ساتھ رہتی ہے، نیکی و بدی کا ازل سے چولی دامن کا ساتھ ہے،جھوٹ و سچ دنیا مین ہر لمحہ موجود رہتے ہیں لیکن صُبح صُبح ہوتی ہے اور رات رات ہوتی ہے،اچھائی اپنا الگ سے مقام رکھتی ہے اور بُرائی الگ سے اپنا آپ منوانے کے لیے کوشاں و سرگرداں رہتی ہے،کُفر ہر ہر پہلو سے اس کوشش میں رہتا ہے کہ حق کو مٹا دیا جائے اور یزیدی قوتیں " ہر ہر لمحہ "حُسینی قوتوں " کے ساتھ نبرد آزما رہتی ہیں جبکہ حُسینی قوتیں اپنے مضبوط کردار اور "توکّلِ الٰہی " کی بدولت ازل سے انکو نیست و نابود کرتی آئی ہیں اور قیامت تک یزیدیت کو شکست و ریحت کا سامنا کرتے رہنا پڑے گا۔
حضرتِ انسان کا ہر ہر عمل اسکے "کردار " کی عکاسی کرتا ہے اور اللہ تعالٰی نے انسانی کردار کی تشکیل کی خاطر کئی ایک عوامل تخلیق کئے ہوئے ہیں لیکن اُن عوامل کے ساتھ ساتھ انسان کو اپنے کردارکی خود سے ہی تشکیل کرنے کی سعی و کوشش کرنا ہوتی ہے اور اُن اصول و ضوابط پر عمل پیرا ہونا ہوتا ہے جو قواعد اسکے کردار کی تشکیل میں ازل سے بہترین انداز میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
نارمل حالات میں تمام انسان اچھے فیصلے کرتے ہیں ،بروقت مُعاملات کو سعتتلع کرتے ہیں اور خوبصورت انداز میں ہر قسم کے مُعاملہ کا بہادری سے فیصلہ کرتے ہیں لیکن مشکل حالات میں انسان کے کردار کی درست طریقے سے شناسائی ہوتی ہے کیونکہ انسان  کے اعلٰی کردار کی اصل شناخت مصیبت کے وقت ہی ہوا کرتی ہے کیونکہ مشکل کے وقت اکثر احباب اپنی خُو کو چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے کردار کی عظمتوں کو بُھلا دیا کرتے ہیں َسچ تو یہ ہے کہ اچھے کردار کے حامل افراد، مضبوط کردار کے مالک انسان دورِ حاضر میں ناپید ہو چکے ہیں اور ہمارے معاشرہ میں کچھ اس نوع کے افراد پائے جاتے ہیں کہ جن کے متعلق محترم علامہ اقبالؒ یوں فرماتے ہیں کہ:۔
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
مَن اپنا پُرانا پاپی تھا برسوں میں نمازی بن نہ سکا
ہمارے معاشرے میں اکثر افراد کے مَن پاپی ہی رہتے ہیں، وہ اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت" کی عملی تصویر بنے رہتے ہیں، وہ جھوٹ کو اپنا اُوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے سچ بولنے کے اور سچ کے فوائد پر لمبے لمبے درس دینے کے شوقین ہوا کرتے ہیں، وہ سر تا پا کرپشن کی گہری گھاٹیوں میں بسیرا کیئے ہوئے کرپشن سے پاک معاشرہ تشکیل دینے کی ضرورت پر ہمہ وقت لیکچر جھاڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، وہ خود بددیانتی کے رسّیا ہوتے ہیں،خیانت کرنے کے خوگر ہوتے ہیں،بُغض پر عمل پیرا ہوتے ہیں،تعصّب کے پیروکار ہوتے ہیں،حسد کے بھنّور میں غوطہ زن ہوتے ہیں اور مذکورہ بُرائیوں کی پُرجوش انداز میں مخالفت بھی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں نیز معاشرے میں ان بُرائیوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جبکہ ہر ذی شعور انسان اس امر سے آشنائی رکھتا ہے کہ معاشرتی فلاح،سماجی بہتری، اخلاقی معراج،مذہبی ترقی اور معاشی بہبود کے حاصل کرنے کے لیے صرف باتیں نہیں بلکہ عمل، عمل اور عمل کی ضرورت ہوا کرتی ہے،گفتار کے غازیوں کی نہیں بلکہ کردار کے غازیوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے کیونکہ۔۔۔
کردار کے غازی جانتے ہیں کہ خُدائے بزرگ و برتر نے اپنے اس نظامِ کائنات میں کئی ایک sources انسانی کردار کی تشکیل کے لیے تخلیق کر رکھے ہیں۔ چاند و سورج کی تخلیق میں اور انکے ایک system کے تحت طلوع و غروب میں ایک تسلسل پایا جاتا ہے اور کردار کی تشکیل میں بھی تسلسل کا پہلو اہم کردار ادا کرتا ہے 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

انسانی کردار کی تشکیل

خُدائے بزرگ و برتر نے اس جہانِ فانی میں حضرتِ انسان کو تخلیق کیا ہے اور ہر انسان کو یہاں اپنی زندگی کے "گِنے چُنے " دن گزار کے ...