جمعرات، 3 ستمبر، 2020

ماننے والے، نہ ماننے والے اور شک کرنے والے

خُدائے بزرگ و برتر نے اِس کائناتِ ارضی پر تین قسموں کے انسانوں کو تخلیق کیا ہے اور ان میں سے پہلے نمبر پر وہ انسان آتے ہیں جو"مان" لیتے ہین،دوسرے نمبر پر وہ انسان ہیں جو "نہیں مانتے"ہیں جبکہ تیسرے نمبر پر وہ انسان ہیں جو"شک"کرتے ہیں۔

مان جانے والے والے انسان مَن و عَن اللہ تعا لٰی کے احکامات کو دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں اور آپﷺ کے پیش کیے ہوئے ماڈل کے مطابق اپنی تمام حیاتِ نا پائیدار بسر کر دیتے ہیں اُنکے سامنے صرف حکمِ الٰہی ہوتا ہے اور اُنکے ذہنوں میں کیوں کا سوال نہیں آتا ہے اور نہ ماننے والے ہر ہر حکمِ الٰہی سے انکاری ہوتے ہیں نیز اُنکی زندگیاں"میں نہ مانوں" والی حرکات  و سکنات پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اگر ماننے والے مشرق کی سمت چل رہے ہیں تو وہ مغرب کی طرف رواں دواں ہو جائیں گے،اگر ماننے والے جنوب کی طرف سفر کر رہے ہیں تو وہ شمال کی طرف چل پڑیں گے لیکن جو شک کرتے ہیں اُنکی حالت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ:۔

نہ خُدا ہی مِلا نہ وصالِ صَنم

نہ اِدھر کے رہے،نہ اُدھر کے

وہ ایسے انسان ہوتے ہیں جو منافقانہ عوامل کے رسّیا ہوتے ہیں،وہ ہر ہر لمحہ اِسی سوچ اور گمان میں رہتے ہیں کہ وہ مومنوں کو بھی اور کافروں کو بھی دھوکہ دیکر بہت بڑا کارنامہ سرانجام دے رہے ہیں جبکہ وہ اِ س امر سے بے خبر ہوتے ہیں کہ اِس دنیا میں رہتے ہوئے اپنے گردا گرد احباب کو وہ کچھ دیر کے لیے تو دھوکہ دے سکتے ہین لیکن اُنکو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دھوکہ نہیں دے سکتے، ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے جیسے انسانوں کو کچھ دیر کے لیے تو دھوکہ  دے سکتے ہیں لیکن اپنے خالق و مالک خُدائے بزرگ و برتر کو کسی بھی صورت دھوکہ نہیں دے سکتے کیونکہ خُدا تعالٰی کی پاک ذات ایسی"عزیز و رحمان" ہستی ہے جس نے تمام جہانوں کو تخلیق کیا اور اپنے تخلیق کردہ انسان کی تمام عادتوں،خصلّتوں،تمام فطرتوں سے ہر ہر لمحہ با خبر ہے بلکہ خُدائے بزرگ و برتر نے خود ہی اپنے بندوں کی تخلیق کے دوران ہی تمام خوبیوں،خامیوں،جذبوں اور احساسات کو تخلیق کر دیا نیز حضرتِ انسان کو خبردار بھی کر دیا لہذٰا منافقت پر عمل پیرا لوگ دراصل کسی کو بھی دھوکہ نہیں دے رہے ہوتے بلکہ وہ خود ہی کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔

اپنے اس"دھوکہ دہی" کے عمل کو پروان چڑھانے کے لیے وہ ہر ہر لمحہ دوسرے انسانوں کی"ٹوہ" میں رہتے ہیں اور اس امر کو یکسر نظرانداز کر دیتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے ٹوہ لینے والے انسانوں کو سخت عذاب کی وعید دے رکھی ہے،وہ اپنی اس عادت پر عمل کرتے ہوئے اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ وہ خوامخواہ اپنی ذہنی،جسمانی و روحانی توانائیاں مسلسل ضائع کرتے چلے جاتے ہیں اور سب سے بڑی حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ اپنا قیمتی ترین وقت اِس "لا حاصل سرگرمی" کی انجام دہی میں ضائع کرتے چلے جاتے ہیں۔

تمام جہانوں کے لیے رحمت اور ہمارے آقا و مولا حضرت مُحَمّدﷺ نے ایسے انسانوں کی اپنے مختلف "فرامین" میں کچھ ایسے شناخت کروائی ہے کہ وہ جب بولیں گے جھوٹ ہی بولیں گے،امانتوں میں ہر حال میں خیانت کریں گے،چرب زبانی کا مظاہرہ کریں گے،خود کو"پارسا" ثابت کرنے کے لیے ہمیشہ ریا کاری سے کام لیں گے نیز خود کو بچانے کے لیے جھوٹی قسموں کا آسرا لیں گے


 

عزیز قارئین!ایسے انسان اس حقیقت سے نا بلد رہتے ہیں کہ اُنکا جھوٹ جھوٹی قسمیں کھانے کے باوجود جھوٹ ہی رہے گا وہ سچ نہیں بن جائے گا حالانکہ اُنہیں چاہیے کہ اپنی زندگی کے کسی بھی معاملہ کو حل کرنے کے لیے اپنی بات کو ہی قسم بنا لیں اور اُنکی بات اس وقت قسم بنے گی جب "سچ اور سچی بات" اُنکا کردار بن جائے گی۔

وہ اِس ازلی حقیقت سے بھی نا آشنا ہی رہتے ہیں کہ اُنکا جھوٹ اُنہیں ذلالّت کے گڑھوں میں گاڑتا چلا جا رہا ہے،اُنکی امانت میں خیانت کی عادت اُنہیں زمانے بھر کی رسوائیوں کے دامن میں ڈالتی چلی جا رہی ہے،اُنکی وعدہ خلافی کی خصلت اُنکو بے اعتباریوں کی گھاٹیوں میں دھکیلتی چلی جا رہی ہے،اُنکی چرب زبانی کی فطرت اُنہیں دیگر افرادِ معاشرہ کی نظروں میں ذلیل ورسوا کرتی چلی جا رہی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مذکورہ تمام برائیاں انکی روحوں کو کمزور کرتی چلی جا رہی ہیں۔


وہ اس ازلی و ابدی حقیقت سے بھی بے خبر رہتے ہوئے "حیاتِ نا پائیدار" گزار دیا کرتے ہیں کہ اس مادی دنیا میں ہم اہلِ ایمان جو"لمحات" نیکی کے کام کرنے میں بسر کرتے ہیں،وہ اچھے کام جو ہم اللہ تعالٰی کے احکامات کے مطابق کرتے ہیں،وہ نمازیں جو ہم"خشّوع وخضّوع" کے عالم میں عجز و انکساری سے ادا کرتے ہیں،وہ روزے جو ہم احکاماتِ الٰہیہ کے مطابق رکھتے ہیں،وہ زکاتیں جو ہم خُدا تعالٰی کے فرمانوں کے مطابق رضائے الٰہی کے لیے ادا کرتے ہیں،وہ حج کے مناسک جو ہم خُدا تعالٰی کیطرف سے نازل کردہ شریعت کے مطابق کرتے ہیں،وہ صدقہ و خیرات جو ہم اللہ کو راضی کرنے کے لیے کرتے ہیں،وہ عیادتیں،وہ تیمارداریاں جو ہم رضائے الٰہی کی خاطر کرتے ہیں وہ سب نیکیاں اِس کائناتِ فانی میں بھی مُمد و مُعاون ثابت ہوتی ہیں

 قبر میں ہمارے ساتھ رہتے ہوئے ہمارے لیے آسانیوں کا سبب بنتی ہیں اور یہی نیکیاں "آخرت" میں بھی ہماری بخشش کی راہوں کو ہموار کر دیتی ہیں

عزیز قارئین!آئیے ہم سب اہلِ ایمان مذکورہ حقیقتوں پہ غور کریں اوراُس"اصلی حقیقت"کا راز جاننے کی کوشش کریں کہ دونوں جہانوں میں کامیابی و فلاح کی نوید نہ تو"شک کرنے والوں"کے لیے ہے اور نہ ہی"نہ ماننے والوں" کے لیے ہے بلکہ یہ سعادت صرف اور صرف"ماننے والوں" کے لیے ہے۔ فی امان اللہ



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

انسانی کردار کی تشکیل

خُدائے بزرگ و برتر نے اس جہانِ فانی میں حضرتِ انسان کو تخلیق کیا ہے اور ہر انسان کو یہاں اپنی زندگی کے "گِنے چُنے " دن گزار کے ...