دُنیا میں ہمیں بقا کہیں بھی نہیں ملتی ہے اور ہم میں سے اکثر اس کائناتِ فانی میں کبھی بقا کی تلاش میں رہتے ہیں اور کبھی وفا کی تلاش میں رہتے ہیں،ہم انسانوں کے ارد گرد پائے جانے والے ماحول میں،ہمارے رشتوں میں بھی دراڑیں پڑ جاتی ہیں،تعلقات بھی توڑ پھوڑ کا شکار ہو جاتے ہیں،ہمارے مقام و مراتب بھی ہم سے چِھن جایا کرتے ہیں،ہمارا مال و دولت بھی ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں رہ پاتا اور وہی مال و دولت جسے ہم جسم و جان کی بازی لگا کر جمع کرتے ہیں وہ ہو سکتا ہے کہ کسی راہزن کے ہاتھوں یوں لگ جائے کہ وہ گِن گِن کر جمع کیے گئےمال و دولت کو بنا گِنے چُرا لے جاتا ہے اور انسان اپنے ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے اور اگر وہی مال ڈاکو چُرا کر نہ لے جائیں تو مرنے کے بعد وہی مال وارثوں کے لیے اکثر باعثِ نزاع بن جایا کرتا ہے اور پھر یہ نزاع نسل در نسل چلتا ہی چلا جاتا ہے۔
اس کائناتِ فانی میں نمرود،شدّاد و فرعون ایسے کردار بھی آئے،بڑی بڑی دنیاوی جاہ و حشمت والے بھی آئے،بے شمار مال و دولت کی ملکیت پر بے جا غرور و تکّبر کرنے والے بھی آئے،بڑے بڑے محلّات میں پُر تعیّش زندگی کے"گِنے چُنے" دن گزارنے والے بھی آئے،بڑے بڑے فاتحین کئی ایک ملکوں کی سرحدوں کو روندنے والے بھی آئے،بڑے بڑے جرّی و بہادر اپنی اپنی بہادری کے اعلٰی ترین کارنامے سرانجام دینے والے بھی آئے،عوام کو اپنا غلام ابنِ غلام سمجھنے والے حکمران بھی آئے،خُدائے بزرگ و برتر کے تخلیق کردہ ایسے ایسے انسان بھی آئے جنکو ایسی ایسی غلط فہمی پیدا ہو گئی کہ اُن کے بغیر یہ نظامِ کائنات مُعطل ہو کر رہ جائے گا اور ایسے ایسے بندے پیدا ہوئے جو اپنے ہی خالق و مالک خُدائے بزرگ و برتر کی اس کائناتِ فانی میں"دیوتا"بن جانے کی کوششِ ناتمام کرتے ہوئے لُقمہِ اجل بن گئے اور پھر چشمِ فلک کو ان کا کہیں نشان تک نہ ملا اُنکی تمام شُہرت،تمام جاہ و حشمت،تمام مراتب خاک میں مل کر خاک ہو گئے۔
حضرتِ انسان کس قدر نا سمجھی اور لاعلمی کا مظاہرہ کرتا ہے کہ اس ختم ہو جانے والی دنیا میں"وفا اور بقا" تلاش کرتا رہتا ہے،موت کا شکار ہو جانے والے رشتوں میں وفا کا متلاشی رہتا ہے،فنا ہو جانے والے تعلقات میں وفا کی تلاش میں رہتا ہے،ختم ہونے والے ناطوں میں وفا ڈھونڈتا رہتا ہے،اپنے اپنے مفادات کی"لگن میں مگن" انسانوں میں وفا کے حصول کی جدوجہد میں لگا رہتا ہے،اپنے عہدوں سے وفا چاہتا ہے،اپنے مال و دولت سے وفا چاہتا ہے،اپنے حکمرانوں سے وفا چاہتا ہے،اپنی رعایا سے وفا چاہتا ہے،اپنے ماتحتوں سے وفا چاہتا ہے،اپنے سنگی ساتھیوں سے وفا چاہتا ہے،دنیا میں اپنے سے چھوٹی طاقتوں سے وفا چاہتا ہے،خود سے بڑی طاقتوں سے وفا چاہتا ہے،ہم پلّہ طاقتوں سے وفا چاہتا ہے جبکہ موجودہ"دجّالی دور" میں وفا نایاب ہو چکی ہے،بقول شاعر:۔
غرض پرست جہاں میں وفا تلاش نہ کر
یہ شے بنی ہے کسی دوسرے جہاں کےلیے
امام غزالیؒ نے دنیا سے متعلق واضع طور پر یہ فرمایا ہے کہ"اس دنیا میں نہ بقا ہے اور نہ ہی وفا ہے"اس کائناتِ ہستی میں زمانہِ ماضی میں بھی وفا تھی نہ ہی زمانہِ حال میں وفا کا کہیں وجود نظر آتا ہے۔حضرتِ انسان نے ماضی میں بھی اپنے ہی ایسے انسانوں کے ساتھ بیوفائی کی بلکہ اپنے اُن راہبروں اور راہنماؤں کے ساتھ بھی بیوفائی کی جن کو خُدائے بزرگ و برتر نے حضرتِ انسان کی مادّی و اُخروی دنیا کی نجات کے حصول کے راستے بتانے کے لیے تخلیق فرمایا۔
تاریخِ انسانی ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے کہ حضرتِ انسان نے انسانیت کا بھلا چاہنے والے اکثر انبیائے اکرامؑ کی تکذیب کی ،اُنکو ستانے کے لیے کئی ایک نازیبا طریقے اختیار کیے،اُن پر طرح طرح کے کے مظالم ڈھائے اور مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے "وفا " کا تیا پانچا کرتے رہے۔اس دنیا میں حضرتِ انسان نے باعثِ تخلیقِ کائنات ایسی عظیم ترین ہستی ہمارے آقا و مولا حضرت مُحمَّد ﷺ پر اس قدر مظالم ڈھائے کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ"مَیں نے دینِ اسلام کی تبلیغ کے دوران تمام سابقہ انبیائے اکرامؑ سے زیادہ تکالیف برداشت کیں حالانکہ ہمارے آقا و مولا حضرت مُحَمَّد ﷺ نے سب کے ساتھ بھلائی کی،سب کی مشکلات حل کیں،سب کے مسائل کا قلع قمع کیا،سب کے دکھوں میں شریک ہوئے،سب کی الجھنوں کا مداوا کیا،سب کی تکالیف کا ازالہ کیا اور تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی رحمت بنے رہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے"رحمت ہی رحمت"رہیں گے لیکن کئی بدبخت انسانوں نے آپ ﷺ کو بھی تکالیف پہنچائیں، حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ ﷺ انسانیت کا بھلا چاہنے والے ہیں، دنیاوی فلاح و بہبود کے ضوابط مُہیا کرنے والے اور جہنم کی آگ سے بچنے کا پیغام دینے والے ہیں اور وہ پیغام بھی یہی ہے کہ اس دنیا میں نہ بقا اور نہ ہی وفا ہے اور اگر بقا ہے تو حضرتِ انسان کی روح کو بقا ہے،حضرتِ انسان کے ایمان کو بقا ہے،اسکے دیگر بندگانِ خُداوند کے ساتھ کی گئی "نیکیوں" کو بقا ہے،دیگر انسانوں کی خدمت میں گزارے گئے"لمحات" کو بقا ہے،ضرورت مندوں کی پوری کی گئی"ضروریات" کے صلہ کو بقا ہے،اسکی ادا کی گئی نمازوں کے"خشّوع وخضّوع" کو بقا ہے،دئیے گئے صدقات میں دل میں ٹھانی ہوئی"نیت" کو بقا ہے اور اللہ کے بندوں تک اللہ کی بات پہنچانے کے دوران پیش آنے والی مشکلات پر"صبر کرنے کے عمل کو بقا ہے۔ورنہ
حضرتِ انسان کو اس دنیا میں تو کہیں بھی "وفا"میّسر نہیں ہے نہ ہی اس کائناتِ فانی کو بقا حاصل ہے اور حضرتِ انسان کو یقینََا یقینََا وفا مل سکتی ہے،بقا بھی مل سکتی ہے لیکن اس امر کے حصول کے لیے ہمیں اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے ساتھ مُحبّت اور انکی طرف رجُوع کرنے کی ضرورت ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں