بدھ، 14 اکتوبر، 2020

دائیں ہاتھ سے دیں تو بائیں کو خبر نہ ہو

اِس کائناتِ ارضی میں اللہ تعالٰی نے اپنی مخلوقات میں سب سے اعلٰی مقام سے حضرتِ انسان کونوازا ہے اور ہم انسانوں میں کئی ایک خوبیاں بھی تخلیق کی ہیں اور کچھ ایسی خصّلتیں بھی رکھ دی ہیں جو انسانی شخصیت و کردار کو متاثر کیا کرتی ہیں نیز اللہ تعالٰی نے ہمیں ایسی خصّلتوں پر قابو رکھنے کا حکم بھی دے رکھا ہے اور اگر ہم ان خصّلتوں پر "گرفت " رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر ہم انسانوں کی عظمتوں پر فرشتے بھی رشک کرتے ہیں۔ بقول الطاف حُسین حالی:۔


فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا

 

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

وہ خصّلتیں ہمیں ہمارے معاشرے میں جا بجا ملا کرتی ہیں، کہیں ہمیں لالچ ایسی خصّلت ملتی ہے، کہیں حسد ملتا ہے، کہیں بد دیانتی ملا کرتی ہے، کہیں جھوٹ ایسی بد نُما خصّلت ملتی ہے، کہیں دھوکہ دہی کی عادت ملتی ہے اور کہیں "خود  نمائی " کی خصّلت ملا کرتی ہے۔

خود نمائی ایسی خصّلت کو اگر ہم  positively  اپناتے ہیں تو ہم یقینََا اس دنیا میں منفرد کردار کے مالک بن جایا کرتے ہیں، خود کو نمایاں کرنے کے لیے ہم دن رات جدوجہد میں مصروف ہو جایا کرتے ہیں، خود کو مُمتاز رکھنے کے لیے ہم اپنے جسم و جان کی تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ، خود کو نمایاں مقام پر لانے کے لیے ہم اپنے معاشرے میں اعلٰی ترین کارنامے سر انجام دینے کی دُھن میں مگن رہتے ہیں اور اگر ہم اپنی خود نمائی کی اس خصّلت کو   negatively  اختیار کر لیتے ہیں تو پھر ہم اپنے معاشرے میں طرح طرح کی خامیاں پھیلانے کا سبب بنتے چلے جاتے ہیں، جھوٹ پر مبنی ماحول پیدا کرنے کا سبب بنتے چلے جاتے ہیں ، مُنافقت پر مبنی معاشرتی اقدار تشکیل کرتے چلے جاتے ہیں، پھر ہمارے معاشرے میں بے شمار ایسے افراد جنم لیتے چلے جاتے ہیں کہ جن کے ہر قول،فِعل، لین دین، چال،ڈھال میں صرف اور صرف نمائش ہی ملا کرتی ہے، انکے ہر عمل میں بناوٹ ملتی ہے، انکی گفتگو میں خود نمائی پائی جاتی ہے، وہ جب بھی، جونسا بھی عمل کرتے ہیں اسمیں خود نمائی کا عنصر نمایاں ملتا ہے اور اپنے خود نمائی کے جذبہ کی تسکین کی خاطر ایسے احباب "مذہب " کی تعلیمات کا بھی پاس نہیں کیا کرتے ہیں 

َ ایسے لوگ مذہب کا پرچار اپنی ہی ذات سے شروع کرتے ہیں اور اپنی ہی ذات پر ختم کرتے ہیں، اپنی ہی ذات کو مذہبی تعلیمات سے لگاؤ رکھنے والا انسان ثابت کرنے میں یدِ طولٰی رکھتے ہیں۔ ہمارے مُعاشرے میں کئی مساجد میں یہ لوگ نماز پڑھنے جاتے ہیں تو وہاں ایسی جگہ پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتے ہیں جہاں انکی شخصیت نمایاں نظر آئے اور ایسی مُسلّمہ حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انکے قیام اور رکوع و سجود کے لیے جونسی جگہ مخصوص ہو چکی ہے وہاں کوئی دوسرا نمازی کھڑا ہونے کی جسارت بھی نہیں کر سکتا ہے، ایسے نمازی "ذکرِ خُداوندی " کرنے کے دوران بھی صرف خود نمائی کے جذبے کی "تسکین " کو پیشِ نظر رکھا کرتے ہیں،نوافل و تہجّد کی ادئیگی کر لیتے ہیں تو معاشرے کے دیگر افراد کے سامنے تذکرہ کرنا اپنا فرضِ اوّلین سمجھتے ہیں۔

ا پنےخود نمائی کے جذبے کی تسکین کی خاطر ہمارے یہ بھائی اکثر ایسا اندازِ گفتگو اپنایا کرتے ہیں کہ میں نماز پڑھنے جا رہا تھا، میں نماز پڑھ کے مسجد سے نکلا، میں نے نماز سے پہلے سوچا، مجھے نماز پڑھنے کے بعد پتا چلا، جب میں نمازِ تہجّد کے لیے جاگا، میں تہجّد کے بعد سویا اور مجھے تہجّد کے لیے جاگنا ہے حا لانکہ نمازِ تہجّد میں ہم سب  اہلِ ایمان اپنے خالقِ حقیقی کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنے  دلوں کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں،گڑگڑاتے ہوئے اپنے چھوٹے چھوٹے اور بڑےبڑے سر زد ہونے والے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اپنے مُسلمان بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں یا زبان سے کی گئی زیادتیوں کی تلافی کے لیے دُعا کرتے ہیں  اور اپنے خالق و مالک کی خوشنودی و رضا طلب کرتے ہیں۔

ہم میں سے اکثر صدقات کی ادائیگی میں بھی اِسی نمائشی پہلو کو پیشِ نظر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، اپنے کسی بھائی، کسی عزیز، کسی رشتہ دار، کسی دوست یا کسی آشنا انسان کی معاونت کرتے ہیں تو ہر شخص سے اس معاونت کا چرچا کرتے ہیں اور ایسے گداگروں کو صدقہ و خیرات دیتے ہیں جو پیشہ ور ہوا کرتے ہیں، وہ پیشہ ور فقیر ایسے" ریا کاروں "کو معاشرے کے دیگر افراد میں سخی، پارسا، غریبوں کے حامی، یتیموں کے آسرا اور ضرورت مندوں کے خیر خواہ کے طور پر مشہور کر دیتے ہیں۔ اس طرح دُکھی انسانیت کی مدد کرنے سے ہمارے خود کو نمایاں رکھنے کے جذبے کی تسکین تو ہو جایا کرتی ہے لیکن ہماری نیّتوں اور دلوں کے حال جاننے والے خالق و مالک کے ہاں ایسے عمل کا کوئی صلہ نہیں ہےکیونکہ اللہ تعالٰی نے صدقات کی ادائیگی کے لیے "سفید پوش " انسانوں کا ذکر کیا ہے جو کسی سے سوال نہیں کرتے اور ہم انکو انکے چہروں سے پہچان لیا کرتے ہیں 

ہم سب کے آقا حضرت مُحَمَّد ﷺ نے اپنے صحابہِ اکرام رضی اللہ تعالٰی عنھا سے  فرمایا کہ جب اللہ تعالٰی نے اپنے کارخانہِ قدرت کو تخلیق کیا تو یہاں تین حصّے پانی تھا اور صرف ایک حصّہ خشک زمین تھی اور وہ خشک زمین کا حصّہ پانی میں کبھی اِدھر کبھی اُدھر تیرتا ہی رہتا تھا۔اللہ تعالٰی نے اس زمین کو ٹھرانے کے لیے طاقتور پہاڑوں کو میخوں کی صورت میں گاڑ دیا جو زمین کو ٹھرانے کا سبب بنے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے صحابہِ اکرام رضی اللہ تعالٰی عنھا سے فرمایا کہ"میں آپ سب کو اِن پہاڑوں سے بھی مضبوط و طاقتور نیکی بتاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اگر آپ اپنے دائیں ہاتھ سے صدقہ دیں تو آپ کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہونے پائے" 

خُدائے بزرگ و برتر سے دُعا ہے کہ وہ پاک ذات ہم سب"اہلِ ایمان" کو اپنے اعمالِ صالح کی ادائیگی کے لیے ُ"خُدائی احکامات" اور آپ ﷺ کے "اُسوہِ حسنہ" کی تقلید کرنے کی توفیق عطا فرمائے! آمین! ثُم آمین !

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

انسانی کردار کی تشکیل

خُدائے بزرگ و برتر نے اس جہانِ فانی میں حضرتِ انسان کو تخلیق کیا ہے اور ہر انسان کو یہاں اپنی زندگی کے "گِنے چُنے " دن گزار کے ...