خُدائے بزرگ و برتر نے حضرتِ انسان کو اس کائنات کی تمام مخلوقات سے زیادہ خوبصورت انداز میں تخلیق کیا ہے اور انسانی جسم کی ساخت میں نہایت ہی مناسب دلکشی،بناوٹ،توازن و تناسب کو maintain رکھتے ہوئے اعلٰی تخلیق میں مُجسّم کیا ہے۔
اس مُسلّمہ حقیقت سے ہم انکار نہیں کر سکتے کہ ہمارا جسم ہمارے لیے خُدائے بزرگ و برتر کی عطا کردہ عظیم ترین نعمت ہے اور ہم بنی نوع انسانوں پرہمارے جسم اور نفس سے مُتعلق کئی ایک حقوق واجب الاادا ہوا کرتے ہیں۔
خُدائے بزرگ و برتر نے ہم انسانوں کو دُنیائے جہاں کے مناظر سے لُطف اندوز ہونے کے لیے ہماری آنکھوں کو بے مثل بینائی سے نوازا،اس حیاتِ ناپائیدار کی سختیوں،مُصیبتوں اور آزمائیشوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے عقلی صلاحیتوں سے سرفراز کیا،زندگی کے مسائل پر آہنی گرفت حاصل کرنے کے لیے مضبوط ہاتھوں اور بازؤوں کو عنائت کیا اور ہماری حیاتِ مُستعار میں دور و نزدیک کے فاصلوں کو طے کرنے کے لیے ہمیں ٹانگیں اور پاؤں عطا کیے۔
ہم انسان خُدا تعالٰی کی عطا کی ہوئی ان تمام مُجسّم نعمتوں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کے تمام مسائل کو حل بھی کرتے ہیں،زندگی کی تمام مشکلات کا سامنا بھی کرتے ہیں،زندگی کے تمام تعلقات بھی نبھاتے ہیں،زندگی کے تمام رشتوں کے ساتھ شانہ بشانہ چلتے بھی ہیں،اپنے مُعاشی ٹارگٹ بھی حاصل کرتے ہیں،تمام تعلیمی مراحل بھی پائیہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں،تمام مُعاشرتی و سماجی بندھنوں کو بھی پروان چڑھانے میں کوشاں و سرگرداں رہتے ہیں اور اپنے دلوں میں جاگزین اکثر آرزؤں اور تمنّاؤں کو پورا کرنے کے لیے اپنے جسم و جان کی تمام تر توانائیاں بروئے کار لانے کے جتن بھی کرتے ہیں لیکن یہ مُسلّمہ حقیقت ہم سب کے لیے افسوسناک ہے کہ ہم میں سے اکثر بنی نوع انسان اپنے جسم و جان کے حقوق کو ادا کرنے میں یکسر ناکام رہتے ہیں اور پھر ہمارے جسم مُختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان بیماریوں میں کچھ تو ایسی بیماریاں ہوتی ہیں جو قلیل مُدّت کے لیے ہمارے لیے پریشانی کا سبب بنا کرتی ہیں جبکہ کچھ بیماریاں اس قدر خطرناک ہوا کرتی ہیں کہ جن سے مُتعلق شاعر نے کیا خُوب کہا ہے کہ:۔
غُلام فریدا اے رونا اوہدوں مُک سِیں
جَد بَھجّیاں کَفن دیاں تنیاں ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جو ہم انسانوں کو زندہ درگور کر دینے کی وجہ بن جایا کرتی ہیں، ہماری اپنے جسم و جان کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کے سبب ہم اکثر ایسی بیماریوں کا شکار ہو جایا کرتے ہیں جن سے مُتعلق جب ہم سوچتے ہیں تو ہمارے رونگٹھے کھڑے ہو جایا کرتے ہیں جبکہ ہم اس امر پر غور و فکر کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ ہمارا جسم خُدائے بزرگ و برتر کی عطا کردہ بہترین نعمت ہے اور خُدائے عزّوجل نے اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دے رکھا ہے اور خُدائی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا بہترین انداز کچھ یوں ہے کہ ہم ان نعمتوں کی حفاظت کریں
خُدائے بزرگ و برتر نے ہمیں صرف خوبصورت جسم و جان سے نوازا ہی نہیں بلکہ اس پاک ذات نے ہم سب کے محبوب آقا حضرت مُحَمَّد ﷺ کی وساطت سے ایسے قواعد و ضوابط بھی عطا کر دیئے ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہو کر ہم سب انسان اپنے جسم و جان کی حفاظت بھی کر سکتے ہیں نیز اِسے صحت مند بھی رکھ سکتے ہیں لیکن افسوس اس امر پر ہوتا ہے کہ ہم میں سے اکثر مُسلمان احباب مذہبی تعلیمات سے بے خبری کے سبب ان احکامات پر عمل پیرا نہیں ہو پاتے جو صحت کے ضامن ہوا کرتے ہیں۔
ایک مرتبہ یونانی مُسلمان حکیم سے ایک غیر مُسلمٗ "ہندو" حکیم نے آپ ﷺ کی مکمل کی گئی تعلیماتِ اسلام سے مُتعلق یہ کہا کہ آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات میں "انسانی زندگی" کے بے شمار پہلوؤں کی how know کو بنانے اور سنوارنے کی تفصیلات ملتی ہیں لیکن انسانی صحت کو maintain رکھنے کے لیے نیز بیماریوں سے بچاؤ اور انکے علاج سے مُتعلق کچھ واضع تعلیمات میسّر نہیں ہیں تو اُس مُسلمان حکیم نے اپنے مخصوص انداز میں ہمارے آقا حضرت مُحَمَّد ﷺ کی بتائی گئی تعلیمات کا ذکر کیا تو وہ ہندو حکیم طِب کے اصولوں کے مُطابق بتائے گئے قواعد و ضوابط سے مُتعلق سُن کر حیران ہوا اور مُسلمان ہو گیا۔
اُس یونانی مُسلمان حکیم نے اُسے کہا کہ ہمارے پیارے رسول ﷺ نے ہمیں حکم دے رکھا ہے کہ آگ کے قریب مت سوؤاور رات کو درخت کے نیچے مت سوؤ کیونکہ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہم آکسیجن کی بجائے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس inhale کر رہے ہوتے ہیں جو ہماری صحت کے لیے زہرِ قاتل ہوا کرتی ہے اور اپنے دستر خوان کو سبز رکھنے کا حکم بھی ہم تمام بنی نوع انسان کے لیے کچھ یوں ہے کہ اپنے دستر خوان کو "سبز " رکھو جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے کھانے میں سبزیوں، پھل و ترکاری کا استعمال زیادہ سے زیادہ ہونا چاہیے ہمیں اس حقیقت سے آشنا رہنا چاہیے کہ ہمارا جسم مٹی سے تخلیق کیا گیا ہے اور اسی مٹی میں اُگائی جانے والی سبزیاں اور پھل ہماری صحت کی بحالی اور بیماریوں سے بچاؤ کا سبب ہیں پھر آپ ﷺ نے ہم سب انسانوں کو یہ تعلیم بھی دے رکھی ہے کہ ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا کھایا کرو پھر ہمیں کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کا حکم دیا گیا ہے، کھانا کھانے کے بعد بھی ہاتھ دھونے اور کُلی کرکے اپنے مُنہ سے خوراک کے اجزا صاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، دانتوں کی صفائی کا آپ ﷺ نے یوں فرمایا ہے کہ " اگر میری اُمت پر ناگوار نہ گزرتا تو میں ہر نماز سے پہلے مِسواک کرنے کا حکم دے دیتا۔"
ہم اس مُسلّمہ حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ کُرّہِ ارض پر ہم انسانوں کی جسمانی صحت، ذہنی صحت، روحانی صحت، مُعاشرتی فلاح، مُعاشی استحکام، سماجی بہبود، دُنیاوی فلاح اور اُخروی نجات کا راز صرف اور صرف اللہ تعالٰی اور ہم سب کے محبوب حضرت مُحَمَّد ﷺ کے ذریعے پہنچائی گئی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں ہی پوشیدہ ہے۔ فی امانِ اللہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں