اِس کائناتِ فانی میں ہمیں دورِ حاضر میں ہر طرف نفرت کا دور دورہ مل رہا ہے اور دلوں میں نفرتوں اور کدورتوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ آج کا انسان اپنوں سے نفرت کر رہا ہے، بیگانوں سے نفرت کر رہا ہے، چھوٹوں سے نفرت کر رہا ہے اور بڑوں سے نفرت کر رہا ہے حالانکہ ہماری مُختصر سی حیاتِ ناپائیدار میں ہمارے پاس اتنا مُختصر دورانیہ ہے کہ خُدائے بزرگ و برتر کی تخلیق کردہ مخلوق میں چاہتیں بانٹنے، مُحبتّیں تقسیم کرنے، میٹھے بول بولنے، اعلٰی اخلاقیات کا مُظاہرہ کرنے اور بیگانوں کو اپنا بنانے کے لیے سِرے سے کوئی لمحہ بچتا ہی نہیں ہے
اللہ تعالٰی نے اس کائنات کو اور اس کائنات کے ہر ہر ذرّے کو لفظِ "کُن " سے تخلیق کیا لیکن حضرتِ انسان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا۔اب چاہیے تو یہ تھا کہ ہم خُدا تعالٰی کی صفتِ رحیمی کا احساس کرتے اور دیگر انسانوں پر رحم کرتے،اللہ کی صفتِ کریمی کو سامنے رکھتے اور دیگر انسانوں کے ساتھ رحم و کرم والا رویّہ اپناتے اور وہ پاک ذات جو ستّر ماؤں سے زیادہ چاہتی ہے اسکی عطا کردہ چاہتوں کو اس مُقّدس ذات کی تخلیق کردہ مَخلُوقات میں بانٹتے چلے جاتے اور اپنے خالق و مالک کی صفات کے مظہر کا بہترین نمونہ بن جاتے لیکن مُعاملہ یکسر اُلٹ ہے کہ ہم میں سےاکثر احباب حق کو چھوڑ کر، سچائی کو پسِ پُشت ڈال کر، حقیقتِ ازلی و ابدی سے مُنہ مُوڑ کر نفرتیں پھیلانے کے رسّیا ہوچکے ہیں حالانکہ نفرت ایک "بیمار جذبہ" ہوتا ہے جو ہم انسانوں کو بھی بیمار کر دیتا ہے، یہ ایک ایسا بیمار جذبہ ہے جو ہمارے ذہنوں کو بیمار کر دیتا ہے ،ہمارے ذہن میں مخلوقِ خُدا کی بھلائی کے جذبے کو ختم کردیتا ہے، بھائی چارے کی سوچ کو مفلوج کر دیتا، نیز عدل و انصاف کو قائم کرنے کی planning کو ملیا میٹ کر دیتا ہے علاوہ ازیں ہمارا بیمار ذہن مخلوقِ خُدا کے خلاف مُسلسل سازشوں میں مصروف رہتا ہے، ہماری سوچیں منفی سمتوں میں رواں دواں رہتی ہیں ہماری روحیں اِسی بیمار جذبہ کے سبب مُختلف خامیوں، کوتاہیوں اور نغزشوں میں اُلجھی رہتی ہیں، ہم دوسروں کی چُغلی و بخیلی میں قیمتی ترین "متاعِ وقت" کو ضائع کرتے رہتے ہیں ہماری روحوں کی پاکیزگی آلودگی کا شکار ہوتی جا رہی ہے بنا بریں ہمارے جسم اسی بیمار جذبہ کی وجہ سے طرح طرح کی نہ سمجھ آسکنے والی بیماریوں کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔
مخلوقِ خُدا سے نفرت کرنے والے انسان اکثر و بیشتر خوفزدہ رہتے ہیں، وہ ایسے احباب ہوتے ہیں جو دلی طور پر، جسمانی طور پر اور روحانی طور پر کمزور ہوتے ہیں، احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں اور اُنکا "احساسِ کمتری" اکثر اوقات "احساسِ برتری" کا روپ دھار لیتا ہے اور وہ اپنے اس رذیل "احساسِ برتری" کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے ہی ایسے انسانوں کے ساتھ ظلم و ستم کرنا شروع کر دیتے ہیں، اُن سے ناانصافی سے پیش آتے ہیں، اُنکے حقوق غصب کرنا شروع کر دیتے ہیں، اُنکے راستے میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں اور اپنی نفرت کے جذبے کو پروان چڑھاتے چلے جاتے ییں۔
وہ نفرت ایسے بد صورت جذبے کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے گردا گرد مُعاشرہ میں طرح طرح کی بد صورتیاں بکھیرتے چلے جاتے ہیں اور مُعاشرتی آلودگی میں اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں درحقیقت ایسے احباب حق سے مُنہ موڑ چُکے ہوتے ہیں حالانکہ انہیں اس حقیقت کا شعور ہونا چاہیے کہ "حق" مروّت کا، سچائی کا، خلوص کا چاہت کا، مُحبّت کا، شفقت کا، بھائی چارے کا، مُساوات کا، انصاف کا، سراسر رحمت کا، کرم کا، حلیمی کا اور کریمی کا نام ہے جبکہ ہمارے یہ احباب مذکورہ جذبوں سے عاری ہوتے ہیں، وہ اس حقیقت سے بھی بے خبر رہتے ہیں کہ اُنکے پاس تمام نعمتوں کو عطا کرنے والی پاک ذات نے تو اُنہیں دیگر افرادِ مُعاشرہ سے پیار کرنا ہی سکھایا ہے جبکہ وہ اپنی اناؤں کے بُتّوں کے پُجاری بن کر اپنی جُھوٹی اناؤں کی تسکین کی خاطر نفرتیں پھیلاتے چلے جاتے ہیں اِن نفرتوں کے حِصار سے نکلنا گوارا نہیں کرتے اور اپنی نفرتوں کی بھینٹ چڑھانے کے دوران کسی "فردِ واحد " کی چھوٹی سی خطا بھی مُعاف نہیں کرتے حالانکہ مُحترم واصف علی واصفؒ کا پیغام تو کچھ یوں ہے کہ:۔
"اگر ہم اس دُنیا میں دوسروں سے مُعافی مانگنا اور مُعاف کرنا سیکھ جائیں تو یہ دُنیا جنّت بن جائے"
نفرت کرنے والے انسان اپنے قابلِ نفرت جذبے کے ہاتھوں مجبور ہو کر نہ تو کسی کو مُعاف کرنے کے عادی ہوتے ہیں اور نہ ہی اُنکی طبیعت اپنے ہی قصورپر کسی سے مُعافی مانگنے کی طرف راغب ہوتی ہے۔
وہ اِس کائناتِ ارضی میں نفرت کے بیج بوتے چلے جاتے ہیں، تعصّب کی پنیری اُگاتے چلے جاتے ہیں، کینہ پروری کے پودے اُگاتے چلے جاتے ہیں پھر ان پودوں کومُنافقت سے لبریز فضاؤں میں پروان چڑھاتے ہی چلے جاتے ہیں اور خُدائے بزرگ و برتر کی تخلیق کردہ کائنات کو "جنّت نظیر" بنانے کی بجائے"جہنم کے گڑھوں" میں تبدیل کرتے چلے جاتے ہیں، وہ اس قبیح جذبے کے ہاتھوں سر تا پا مجبور ہو کر اپنی مذہبی تاریح کی اس حقیقت کو بھی پسِ پُشت ڈال دیتے ہیں کہ ہم مُسلمانوں کے آقا حضرت مُحَمَّد ﷺ کو خُدائے بزرگ و برتر نے اِس دُنیا کو "جنّت نظیر " بنانے کے لیے تخلیق کیا تھا اور ہم اپنی اس دُنیا کو آپ ﷺ کے اُمّتی ہونے کے باوجود جہنم بنانے کے لیے کیوں کوشاں و سرگرداں ہیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں