ہفتہ، 26 ستمبر، 2020

پاکستان کا مطلب کیا ؟ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللہِ


وطنِ عزیز کو جس پہلو سے بھی دیکھیں گے تو وطنِ عزیز "عزیز " ہی ہوتا ہے 

کوئی وطن ایسا نہیں ہوتا جو وطن کے تمام مَحاسن سے لبریز نہ ہو، جہاں ہر سُو بنی نوع انسان کی اُمنگیں پوری نہ ہوتی ہوں، جہاں عام آدمیوں کو انصاف نہ ملتا ہو، جہاں بھائی چارے کی فضا نہ ہو، جہاں ہمدردی کے جذبات کی فراوانی نہ ہو، جہاں امانت و دیانت کا ماحول نہ ملتا ہو، جہاں انسانوں کی آپس میں چاہتیں نہ ہوں،جہاں زندگی میں آسانیاں نہ ہوں اور جہاں زندگی ہی زندگی ہو درندگی نہ ہو۔ 

ہمارے وطنِ عزیز کی history ہمیں آگاہی دیتی ہے کہ حصولِ پاکستان کی خاطر ہمارے آباؤاجداد نے شب و روز محنت کی، بے شمار قربانیاں دیں، اپنے خاندانوں کو بےیارومددگار چھوڑا، اپنی اِملاک وکاروباروں کو خیرباد کہ دیا اور یہ سب قربانیاں صِرف اور صِرف اس لیے دیں کہ اپنی آئندہ نسلوں کی خاطر الگ سے "وطنِ عزیز " حاصل کیا جائے اور بلا شُبہ پاکستان کا حصول اسی وجہ سے مُمکن ہوا کہ ہمارے آباؤاجداد کی نیتّوں میں "خلوص" تھا۔ 

عزیز قارئین! جب نیتّوں میں خلوص ہوتا ہے تو خُدائے بزرگ و برتر ہمارے تمام کاموں میں آسانیاں پیدا کرتے چلے جاتے ہیں، تیزی سے اور حیران کُن انداز میں ایسے ایسے شاندار اسباب بنتے چلے جاتے ہیں کہ ہماری منزلیں قریب سے قریب تر ہوتی چلی جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے بزرگوں نے صِرف 7 سال کے قلیل عرصہ میں اپنا الگ وطن "پاکستان " حاصل کر لیا۔

اگر ہمارے بزرگوں نے الگ وطن حاصل کرنے کے لیے قربانیاں دیں تو اسمیں اُنکے سامنے سب سے بڑا مقصد یہ نہیں تھا کہ الگ سے " خطہِّ زمین " حاصل کیا جائے بلکہ اُن کا مقصد یہ تھا کہ مُسلمانوں کے لیے ایک ایسا وطن حاصل کیا جائے جہاں وہ اپنے بنائے ہوئے ضوابط پر عمل نہ کریں اور نہ ہی مُستعار لیے ہوئے نظام ہائے زندگی پر عمل پیرا ہوں بلکہ وہ خُدائے بزرگ و برتر کے بتائے ہوئے قواعد و ضوابط پر عمل کریں اور اِنہی اصولوں کے مُطابق اپنی حیاتِ ناپائیدار کو بسر کریں۔ 

اُنکے لیے اُنکا وطن ایسا ہو جہاں اُنکو انصاف ملے، رواداری پر مبنی ماحول ملے، اُنکی نسلیں بھائی چارے کی فِضا میں نشو ونما پائیں ، اُنہیں حضرت عُمر رضی اللہ تعالٰی عنہُ جیسا عدل میّسر ہو، حضرت عُثمان  رضی اللہ تعالٰی عَنہُ   ایسی سخاوتیں کرنے کے عادی مومن بھائی ملیں ، اُنکو چار سُو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عَنہُ ایسی بہادری و ہمت رکھنے والی شخصیات سے پالا پڑے اور اُنکو اپنے گردا گرد ایسا ماحول ملے جہاں کوئی طاقتور کسی کمزور پر ظُلم نہ کرے ، کوئی تاجر اپنے صارف سے ناجائز قیمت وصول نہ کرے ،جہاں کوئی بہن یا بیٹی اپنی پسند کی شادی کرنے کے بعد خود کُشی کرنے پر مجبور نہ ہو ، جہاں کسی بیٹی یا بہن کی عزّت و ناموس داغ دار نہ ہو ، جہاں کوئی بھی ماں اپنے بچوں کی بھوک کے سبب خود کشی کرنے پر مجبور نہ ہو ، جہاں ہر خاص و عام کو علاج کی تمام تر سہولتیں میسّر ہوں۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ جہاں عوام کے لیے حُکمران نہ ہوں بلکہ راہنما ہوں جو اپنی قوم کی زندگیوں میں آسانیاں بانٹیں، اُنکی خاطر ترقی کی راہیں کُشادہ کریں، اُنکی غُربت کو ختم کریں، اُنکی بیماریوں کے علاج کا بندوبست کریں،اُنکو مُلازمتوں سے نوازیں، عوام کا دُکھ راہنماؤں کا دُکھ ہو، اُنکی تکالیف راہنماؤں کی محرومیاں بن جائیں اور جہاں عوام بھی اپنے راہنماؤں کے سچ کو سچ ہی کہیں،اُنکے جُھوٹ کو جُھوٹ ہی کہیں، اُنکی خدمات کو خدمات ہی جانیں،اُنکی قربانیوں کو بھی تسلیم کریں، اُنکے ایک اشارے پر وطن کی خاطر اپنی جان تک قربان کرنے سے گریز نہ کریں اور اپنے راہنماؤں کی راہنمائی میں اُسی مقصد کے حصول کے لیے جُہدِ مُسلسل میں مصروف رہیں جس مقصد کی خاطر وطنِ عزیز حاصل کیا گیا تھا کیونکہ۔۔۔

جو قومیں اپنے مقاصد کو بُھلا دیتی ہیں وہ اکثر بگاڑ کا شکار ہی رہتی ہیں اور وطنِ عزیز میں ایسا وقت آن پہنچا ہے کہ ہمارے حُکمران ہمارے راہنما بن جائیں اور پوری قوم کو پھر سے وہی اعلٰی مقصدِ تخلیقِ پاکستان ازبر کروا دیں جس مقصد کا اظہار میرے بہت ہی پیارے اُستادِ مُحترم جناب اصغر سودائیؔ صاحب نے تحریکِ پاکستان کے دوران تمام مُسلمان قوم کے بچے بچے کی زبان سے کروا دیا تھا کہ:۔

پاکستان کا مطلب کیا ؟

 لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللہِ 


جب ہم سب پاکستانی مِن حیثُ القوم مذکورہ مقصدِ تخلیقِ پاکستان کو شعوری طور پہ سمجھ جائیں گے تو ہم یقینََا یقینََا اپنے باقیماندہ مقاصدِ زندگی بھی بڑی آسانی سے حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں گے کیونکہ ایسی صورتِ احوال میں ہمیں اس قسم کا شعور حاصل ہو جائے گا کہ جس خُدائے بزرگ و برتر نے ہمیں وطنِ عزیز عطا فرمایا ہے اس نے صرف ہم مُسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کو قرآنی تعلیمات کی صورت میں خیرِ کثیر عطا فرمائی ہے اور ان قرآنی تعلیمات کی شکل میں وہ تمام قوائد و ضوابط عنائت کر دیے اور اپنے پاک محبوب حضرت مُحَمَّد ﷺ کے ذریعے "عملی نمونہ " بھی بنا کرقیامت تک ہم انسانوں کے لیے محفوظ کر دیا ہے کہ جن پر عمل کرکے ہم نہ صرف اس مادّی دنیا میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ہمیں اُخروی نجات کی اُمید بھی بندھ جاتی ہے۔ فی امانِ اللہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

انسانی کردار کی تشکیل

خُدائے بزرگ و برتر نے اس جہانِ فانی میں حضرتِ انسان کو تخلیق کیا ہے اور ہر انسان کو یہاں اپنی زندگی کے "گِنے چُنے " دن گزار کے ...