منگل، 22 ستمبر، 2020

پاکستان کے مسائل اور پاکستانی Common man

 وطنِ عزیز پاکستان ہمارے آباؤ اجداد نے بے شمار قربانیاں دے کر حاصل کیا اور اِس مقصد کے لیے حاصل کیا کہ انگریزوں اور ہندوؤں کے ظلم و ستم سے نجات مل سکے،اُنکی تنگ نظری سے بچا جا سکے،اُنکی ناانصافی سے پناہ مل سکے،اُنکی اقربا پروری سے پناہ مل سکے، اُنکے جبّر و استبداد سے چھٹکارا مل سکے اور اُنکی شاطّرانہ چالوں سے بچاؤ کے لیے ایک ایسا خطّہِ زمین حاصل کر لیا جائے جہاں ہر طرح کی آزادی ہو، جہاں آزاد معاشی ماحول ملے، جہاں آزاد تعلیمی ماحول ملے، جہاں آزاد معاشرتی ماحول ملے، جہاں آزاد سماج کی رونقیں میّسر ہوں،جہاں آزاد سیاسی ماحول کی فضائیں ملیں، جہاں آزاد مذہبی ماحول ہر سُو  دستیاب ہو، جہاں مساوات ملے، انصاف ملے اور عدل کا بول بالا ہو لیکن۔۔۔

وطنِ عزیز کو حاصل کیے ہوۓ 73 سال ہو چکے اور یہاں بسنے والے عوام کے لیے زندگی آج بھی غیر مُستحکم ہے، عام آدمی کو torch کرنے کے لیے کئی طرح کے حربے استعمال کیئے جا رہے ہیں، ہماری "نسلِ نو" کو مدارس میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ پاکستان کا مطلب پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ ہے لیکن ہم میں سے "اکثر" اس پاک وطن میں حیاتِ ناپائیدار بسر کرنے والے مُختلف آلودگیوں کا شکار ہیں، ہم میں سے کئی ایک اپنی مجلسوں کو آلودہ کر رہے ہیں، اپنے دفاتر میں آلودگی پھیلا رہے ہیں، اپنے مُعاشرتی نظام کو آلودہ کر رہے ہیں، اپنے عدالتی نظام کو آلودہ کر رہے ہیں نیز اپنے تعلیمی نظام میں طرح طرح کی آلودگی پھیلا رہے ہیں

پاک وطن میں زندگی بسر کرنے والے اکثر احباب مسائل کو حل کرنے کی بجائے پاکستان کو مسائلستان کے طور پر مُتعارف کروانے پر مُصِّر ہیں، یہاں کے مسائل کا تذکرہ ہر کوئی اپنے انداز میں کر رہا ہے، کسی شادی ہال میں چلے جائیں وہاں پاکستان کے مسائل کا ذکر جوش و خروش سے ہوتا ہے،کسی رسمِ دسواں کو attend کر لیں تو وہاں پاکستان کے مسائل کے لَتّے لیے جاتے ہیں، کہیں تیمارداری کے لیے چلے جائیں تو تیمارداری سے زیادہ پاکستان کے مسائل کا ہی ذکر چِھڑ جاتا ہے، کہیں تعزیّت کے لیے چلے جائیں تو وہاں بھی وطنِ عزیز"پاکستان" کے مسائل سے مُتعلق بحث و تمخیص شروع ہو جایا کرتی ہے۔

کسی صحافی سے ملیں تو وہ اپنے مخصوص انداز میں پاکستان کے مسائل سے مُتعلق دلائل دے گا، کسی اینکر پرسن کو سُن لیں تو وہ بھی وطنِ عزیز میں موجود مسائل کا مُدلّل تذکرہ کرے گا، ہمارے محترم اساتذہ سے ملیں تو وہ نہایت مہارت سے پاکستان کے مسائل پر روشنی ڈالیں گے، اپنے وطن کے سیاسی کارکنوں سے ملاقات کر لیں تو وہ بھی بڑے خوبصورت پیرائے میں پاکستان کے مسائل بیان کریں گےپھر  حکومتوں میں اپوزیشن کے بنچوں پر براجمان ہمارے عالی دماغ راہنما اپنے مخصوص style   میں پیارے وطن کے مسائل پر خون کے آنسو روتے ہوئے ملیں گے اور ہمارے بر سرِ اقتدار راہنما بھی ہمیں وطنِ عزیز میں موجود بے شمار دلوں کو دہلا دینے والے مسائل و مُعاملات کا پرچار کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔

وطنِ عزیز میں کچھ ایسا ماحول پیدا ہو چکا ہے کہ مختلف چینلز پر، سوشل میڈیا پر، اخبارات میں پاکستان میں ہر روز جنم لینے والے مسائل کا تزکرہ ہی عام آدمی کی tension بڑھانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

اسے کہیں چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں پر مظالم کی داستانوں کا پتا چلتا ہے، کہیں اس وطن کی ماؤں و بیٹیوں پر ستم ڈھانے کے واقعات کی خبریں ملتی ہیں، کہیں کرپشن کے بڑے بڑے سکینڈلز سے آشنائی ہوتی ہے، کہیں قتل و غارت گری کے واقعات عام آدمی کے دل کو لرزا کے رکھ دیتے ہیں۔ 

اس common man کو کبھی گیس کے مہنگا ہو جانے کی خبر مل جاتی ہے تو کبھی بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کی وعید سنا دی جاتی ہے اور کبھی پاکستانی روپے کی ڈالر کے مقابلہ میں value کمی کی خبر دے دی جاتی ہے، کبھی خزانے کے خالی ہو جانے کی خبر دے دی جاتی ہے اور کبھی وطنِ عزیز کے دیوالیہ ہو جانے کے خدشات کا اظہار کر دیا جاتا ہے۔ 

عام آدمی جب وطنِ عزیز کے مسائل پر غور کرتا ہے تو غور ہی کرتا چلا جاتا ہے اور اسے اس حقیقت سے آشنائی نہیں ہو پاتی کہ ان تمام کے تمام مسائل کا حل کیسے ہو گا؟ کب ہوگا؟ اور کون کرے گا؟ عام آدمی "عام آدمی" سے ان مسائل کے حل کا تصّور نہیں کر سکتا کیونکہ عام آدمیوں کی "اکثریت" تو وطنِ عزیز کے مسائل کو "شعوری" طور پر جانتی ہے اور نہ جاننے کی کوشش ہی کرتی ہے جبکہ وطنِ عزیز میں ہمارے اربابِ اختیار کچھ اس قسم کے روائتی اندازِ حکمرانی کے قائل ہیں کہ جن کے مُتعلق ہمارے قومی شاعر علّامہ مُحَّمد اقبالؒ کچھ یوں فرماتے ہیں کہ:۔

کوئی کارواں سے ٹُوٹا کوئی بَدگُماں حَرم سے

کہ اَمیرِ کارواں میں نہیں خُوئے دِل نوازی

وطنِ عزیز میں عام آدمی کو وطنِ عزیز کے مسائل کا حل جب عام آدمیوں سے نہیں ملتا، حکومتی اداروں سے نہیں ملتا،حزبِ اِختلاف سے نہیں ملتا اور حزبِ اقتدار کے راہنماؤں سے نہیں ملتا تو پھر عام آدمی کی حالت اُس معصوم بچے کی طرح ہو جاتی ہے جس کے مُتعلق شیخ سعدیؒ اپنی ایک حکایت میں کچھ اس طرح رقمطراز ہیں کہ ایک بادشاہ سلامت بیمار ہو جاتے ہیں تو سارے ملک میں سے حکیموں اور طبیبوں کو علاج کے لیے بُلایا جاتا ہے اورتمام ڈاکٹرز کا مُتفقہ فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ بادشاہ سلامت کی صحت یابی کے لیے کسی ایسے شخص کا پِتَّہ نکال کر کھلایا جائے جو خاص قسم کی "خصوصیات" کا حامل ہو۔ بادشاہ سلامت کی خوش قسمتی تھی کہ ایک کسان کے بیٹے میں مطلُوبہ خصوصیات پائی جاتی تھیں، بچے کے والدین کو مال و دولت سے نواز کر اُن کی رضامندی حاصل کر لی گئی اور بادشاہ سلامت کی صحت کی خاطر قاضی نے اس معصوم بچے کو ذبح کرنے کا پروانہ جاری کر دیا، جب بادشاہ سلامت کی موجودگی میں بچے کو ذبح کیا جانے لگا تو اُس بچے نے آسمان کی طرف نظریں اُٹھائیں اور بے ساختہ مُسکرانے لگا اور جب بادشاہ سلامت نے بچے سے مُسکرانے کی وجہ پوچھی تو اس معصوم سی جان نے جواب دیا کہ بادشاہ سلامت!!! میں آسمان کی طرف مُنہ کرکے اس لیے مُسکرایا ہوں کہ ایک معصوم بچہ اپنے والدین سے رحم کی اُمید رکھ سکتا ہےجبکہ میرے والدین پیسے کے لالچ میں آکر اپنی ہی اولاد کو ذبح کروا دینے کے لیے تیار ہو گئے ہیں،اور دوسرے نمبر پر وہ معصوم بچہ قاضی سے رحم اور انصاف کی اُمید رکھ سکتا ہے لیکن قاضی نے بھی میرے ساتھ "عدل و انصاف" کا مُعاملہ کرنے کی بجائے بادشاہ سلامت کی صحت کی خاطر مجھے ذبح کر دینے کا حُکمنامہ جاری کر دیا ہے۔اب ایسی "صورتِ احوال" میں مُجھے صرف خُدائے بزرگ و برتر سے ہی انصاف کی اُمید ہو سکتی ہے جبکہ آپ کی سلطنت میں مُجھے تو کسی سے بھی انصاف کی توقع نہیں ہے جب بادشاہ سلامت نے اس معصوم بچے کی بات کو سنا تو اُس کے دل میں خدائے بزرگ و برتر نے رحم پیدا کر دیا اور بادشاہ سلامت نے اس معصوم بچے کو روتے ہوئے آزاد کر دینے کا حُکم کچھ یوں دیا کہ "مُجھے ایسی صحت مند زندگی کی ضرورت نہیں ہے جو ایک معصوم بچے کی جان لے کر ملے" شیخ سعدیؒ لکھتے ہیں کہ بچے کو آزاد کرنے کے بعد بادشاہ سلامت خود بھی خُدائے بزرگ و برتر کی کرم نوازی سے جلد ہی صحت یاب ہو گئے۔

وطنِ عزیز میں "عام آدمی " کے لیے بے شمار مسائل کا حل بھی ہمیں شائید نہ حزبِ اختلاف سے، نہ حزبِ اقتدار سے، نہ مُقتدر اداروں سے اور نہ  ہی انتطامیہ سے مل سکے اور ہو سکتا ہے کہ ہمارے پاک وطن میں ہمارے مسائل کے حل کرنے میں ہماری عدلیہ بھی بے بس ہی رہے اور پھر ہمارے ملک کے "عام آدمی " کو بھی آسمان کی طرف اپنا مُنہ اُٹھا کے، اپنے ہاتھ اُٹھا کے اُس معصوم بچے کی طرح خُدائے بزرگ و برتر سے اپنے وطن میں موجود مسائل کے حل، ملک میں امن و امان کے قیام، ملک میں عدل و انصاف کے رواج، ملک میں ہمدردی و بھائی چارے کے ماحول کو "عام" کرنے کے لیے اذانیں دینا پڑیں،اور دُعائیں کرنا پڑیں کیونکہ خُدائے بزرگ و برتر تو اپنے بندوں سے 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والی "رَحیم و کریم ذات " ہے اور وہ ذات اپنے بندوں سے پیار بھی کرتی ہے اور عدل بھی کرتی ہے۔فی امانِ اللہ !





کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

انسانی کردار کی تشکیل

خُدائے بزرگ و برتر نے اس جہانِ فانی میں حضرتِ انسان کو تخلیق کیا ہے اور ہر انسان کو یہاں اپنی زندگی کے "گِنے چُنے " دن گزار کے ...