ہفتہ، 19 ستمبر، 2020

اَخلا قِ کریمہ

 خُدائے بزرگ  وبرتر نے ہم انسانوں کے مٹی سے بنائے گئے  پُتلے  میں اپنی طرف سے روح کو ہمارے جسموں میں داخل کیا تو ہمیں زندگی ایسی ا علٰی ترین نعمت سے نواز دیا اور ہمارے جسم و جان کی شکل و شباہت نہایت ہی خوبصورت سانچے میں ڈھالی،ہمیں دنیاوی مُعاملات کو نمٹانے کے لیے ہاتھ پاؤں عطا کیے،دلکش مناظر کو enjoy کرنے کے لیے بینائی عطا کی،غور و فکر اور فیصلہ سازی کے لیے دماغ عطا کیا، اور ہمیں اس مادّی دنیا میں حیاتِ مُستعار گزارنے کے لیے ہمارے جسم و جان کی خوراک کا بندوبست بھی کر دیا۔

خُدائے بزرگ وبرتر نے ہمارے جسم کو مٹی سے بنایا اور جسم کی نشو و نُما اور تحریک کی خاطر اس جسم کے لیے حاصل ہونے والی تمام کی تمام خوراک ہمیں اسی مٹی سے ہی حاصل ہوتی ہے اور ہمارے دماغ کی خوراک"علم" کی صورت میں اِقراء بِااِسمِ رَبِّکَ الّٰذِی ایسے کلمہ سے پہلی وحی کا آغاز کرتے ہوئے پہنچا دی اور ہماری روح کی غذا اپنے ذکر، فکر اور قرآنی تعلیمات کی صورت میں قیامت تک کے لیے محفوظ کر دی نیز ان تعلیمات کی حفاظت کی ذمّہ داری بھی اللہ نے اپنے ذمّہ لے لی۔

ہم اکثر اوقات ایسی سُستی و لا پرواہی کے مُرتکب ہو جاتے ہیں کہ اپنے جسم کی خوراک کا بالخصوص دھیان رکھتے ہیں لیکن اپنے دماغ کی خوراک "علم" کے حصول سے روگردانی کر جاتے ہیں اور اس سے بھی بڑی کوتاہی ہم سے یہ ہو جایا کرتی ہے کہ اپنی روح کی خوراک"ذکر و فکرِ خُداوندی و قُرآنی تعلیمات" سے بے خبر رہ جاتے ہیں

ہماری یہی سُستی و کاہلی اس مُعاشرتی دنیا میں،مُعاشی میدان میں، سماجی اجتماع میں طرح طرح کے بگاڑ کا سبب بنا کرتی ہے کیونکہ ہمارے جسم اور دماغ میں آنے والی تبدیلیاں، ترقّیاں اور بہتریاں ہماری روح کے صحت مند ہونے میں پوشیدہ ہیں ہماری ہر حرکت، ہمارا ہر عمل، ہمارا ہر قول، ہمارا ہر فِعل، ہماری ہر جُنبش اور ہماری ہر  تحریک ہماری روح کے مرہونِ منت ہوا کرتی ہے لہٰذا ہمیں اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنی روح کی خوراک کا خُدائے بزرگ و برتر کے احکامات کے مطابق بند و بست کرتے رہنا ہو گا اور اپنی روحوں کی بالیدگی و اطمینان کی خاطر ہمیں اخلاقِ کریمہ کو جاننے اور ان پر عمل کرنے کے لیے کوشاں و سرگرداں رہنا ہو گا لیکن افسوسناک اَمر کچھ یوں ہے کہ دورِ حاضر میں ہم میں سے"اکثر احباب" اخلاقِ کریمہ کی بجائے اخلاقِ رذیلہ پر عمل کرتے رہنے پر مُصِّر ہیں حالانکہ ہمیں اس حقیقت سے آگاہی ہونی چاہیے کہ اگر ہم کسی کا مال لوٹیں گے تو یقینََا ہماری روح کو تکلیف ہو گی، اپنے بھائیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالیں گے تو یقینََا ہماری روح تڑپے گی، کسی کو دھوکہ دیں گے تو یقینََا ہماری روح بے چین ہو گی، اپنے والدین کی دل آزاری کریں گے تو یقینََا روح بے کَل ہو گی، نا انصافی کے مُرتکب ہونگے تو یقینََا ہماری روح بے قرار ہو گی، جُھوٹ بولنے کے رسّیا ہونگے تو یقینََا ہماری روح کی بے چینی میں اضافہ ہو گا، وعدہ خلافی کریں گے تو یقینََا ہماری روح کی بے تابی بڑھے گی اور اخلاقِ رذیلہ یقینََا یقینََا ہماری روحوں کی کمزوری و نقاہت کا سبب بنتے چلے جاتے ہیں جبکہ ہمارے آقاحضرت مُحمَّد ﷺ کا فرمانِ مبارک تو یوں ہے کہ:۔

"آدھا ایمان عبادات اور آدھا ایمان اخلاقیات میں ہے"

ہماری عبادات میں سے ہماری نمازیں ہمیں اطاعتِ امیر و مُساوات کا درس دیتی ہیں، ہمارے روزے ہمیں صبر و استقامت اور خُدائے بزرگ و برتر کی اطاعت کا پیغام دیتے ہیں، ہمارا حج ہمیں کائناتی بھائی چارے کا سبق دیتا ہے، ہمارے صدقات کی ادائیگی کے عوامل ہمیں ضرورت مندوں اورحاجت مندوں کے ساتھ ہمدردی و ایثار ایسے جذبات پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں اور ہمارا جہاد کے لیے نکلنے کا عمل ہمیں اپنے وطن کی مٹی سے چاہت کے اظہار کا پیغام دیتا ہے۔

ہماری عبادات ہمارے اخلاقِ کریمہ کواستحکام بخشتی ہیں، استقلال عطا کرتی ہیں اور یوں ہمارے اخلاقیات کریمہ ہماری زندگی کا لازمی حِصّہ بن جاتے ہیں۔ہماری عبادات ہمارے خُدا تعالٰی نے ہمارے آقا حضرت مُحمَّد ﷺ کے ذریعے ہم پر اُتاری ہیں تاکہ اخلاقِ کریمہ کو اپنی عادت بنانے کی مشق "تا حیات" جاری و ساری رہے، اپنے مُعاشرہ میں انتشار و بگاڑ، بے چینی و بد امنی، دُشمنی و عناد، حرص و لالچ، بُغض و کینہ اور حسد و تعصّب کو ختم کرنے کے لیے ہمیں اخلاقِ کریمہ پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے اور خُدائے بزرگ و برتر نے ہم اہلِ ایمان کو  سورہ حَجرات میں مُدلّل انداز میں مُخاطب کرتے ہوئے اخلاقِ کریمہ کے تمام اصول و ضوابط عطا کر دیئے ہیں ۔ خُدائے بزرگ و برتر نے ہم اہلِ ایمان کو حُکم دیا ہے کہ اگر دو اہلِ ایمان میں دُشمنی ہو جائے تو اُن میں صُلح کروا دیا کرو،اُن میں سے زیادتی کرنے والے کے ساتھ لڑو، صلح کروانے سے امن پیدا ہوتا ہے،عدل کرتے ہوئے صلح کروائیں اور آپس میں بٹھا دیں،اللہ تعالٰی عدل کرنے والے کو پسند کرتا ہے،مُسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں،تُم اپنے بھائی کی دُنیا میں پردہ پوشی کرو گے تو اللہ تعالٰی تُمھاری قیامت کے روز پردہ پوشی کرے گا، اُسے ظلم سے بچاؤ، کسی کا مذاق نہ اُڑایا کرو، کسی کو حقیر نہ جانو، ایک دوسرے پر عیب نہ لگاؤ، کسی کو بُرے القاب سے نہ پُکارو،غلطی ہو گئی تو تذکرہ نہ کرو، چُغلی نہ کرو، بد گمانی سے بچو، جاسوسی نہ کرو، ٹوہ نہ لو اور غیبت نہ کرو۔

خُدائے بزرگ و برتر نے ہم سب اہلِ ایمان کو ایسے شاندار ضوابطِ حیات عطا کر دیے ہیں کہ جو ہمارے لیے، ہمارے مُعاشرے کے لیے، ہمارے سماج کے لیے، ہماری برادری کے لیے، ہمارے خاندان کے لیے اور ہمارے خاندان کے ہر ہر فرد کے لیے امن کا سبب بنتے ہیں، بھائی چارہ پیدا کرتے ہیں، ہمدردی کے جذبات کو اُجاگر کرتے ہیں، عزتِّ نفس کی بحالی کا ماحول پیدا کرتے ہیں، عدل کا ماحول پیدا کرتے ہیں، مُساوات پر مبنی مُعاشرتی نظام فراہم کرتے ہیں اور انصاف پر مبنی سوسائٹی کے قیام کا سبب بن جایا کرتے ہیں

ہمارے آقا حضرت مُحمَّد ﷺ نے اپنی تمام حیاتِ مُبارکہ میں خُدائے بزرگ و برتر کے عطا کردہ قوانین و ضوابط پر خود بھی عمل کیا اور آپ ﷺ کے صحابہِ اکرام    رضی اللہ تعالٰی عَنھُم نے بھی ایسے ہی "اعلٰی اخلاقیات" کی مثالیں پیش کیں کہ جِن میں "جامعیت" کی خصوصیت پائی جاتی ہے اوردُنیا کی ہر قوم، ہر نسل، ہر حاکم، ہر محکوم،  اور ہر امیر و غریب ان سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے اور ایسے ہی اخلاقیات کی مثالیں دیں جن میں "تفصیلات" پائی جاتی ہے اوران میں انسانی دُکھ، سُکھ، غمی،خوشی، دُشمنی، دوستی، نفرت و مُحبّت اور ہر طرح کے بدلتے ہوئے حالات کے مُطابق راہنمائی مل جاتی ہے اور ان اخلاقیات میں ہمیں "دائمیت" کا پہلو بھی ملتا ہے کیونکہ یہ اخلاق صرف آپ ﷺ اور صحابہِ اکرام  رضی اللہ تعالٰی عَنھُم  کے زمانے کے لیے مخصوص نہیں بلکہ قیامت تک  آنے والے انسانوں کے لیے ہیں اسکے علاوہ ان اخلاقِ کریمہ میں"عملیّت" کا پہلوموجود  ہے اورہرانسان ان پر آسانی سے عمل کر سکتا ہے،خُدائے بزرگ و برتر ہم سب اہلِ  ایمان کو اخلاقِ کریمہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے! آمین!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

انسانی کردار کی تشکیل

خُدائے بزرگ و برتر نے اس جہانِ فانی میں حضرتِ انسان کو تخلیق کیا ہے اور ہر انسان کو یہاں اپنی زندگی کے "گِنے چُنے " دن گزار کے ...