خُدائے بزرگ و برتر نے ہم انسانوں کو بے شمار نعمتیں عطا کر رکھی ہیں،یہ کائناتِ فانی مختلف النوع نعمتوں سے بھری پڑی ہےاور ہمارا وطنِ عزیز پاکستا ن تو فَبِاَیِ اٰلآَءِ رَبِکُماَ تُکَذِبٰن"کی مُنہ بولتی تصویر ہے،اس وطن کے میدان،اس پیارے وطن کے پہاڑ،اس وطن کے سمندر،اس وطن کی فضائیں، اس وطن کی ہوا ئیں،اس وطن کے عوام،اس وطن کی افواج،اس وطن کے ہم وطنوں کی جسمانی قابلیتیں،اس وطن کے جوانوں کی ذہنی صلاحیتیں،ہمارے وطنِ عزیز کے لیے،وطنِ عزیز کی عوام کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایسی نعمتیں ہیں کہ جنکی عطا و عنایت کےلیے ہم خداۓ بزرگ و برتر کا خاطر خواہ شکر ادا کرنے میں بھی پورا نہیں اُتر پاتے۔ پاکستان ایسی عظیم نعمت کی خوشخبری خواجہ مُعین الدین چشتیؒ نے 800 سال پہلے ہی دے دی تھی اور بلاشبہ اس دنیا میں صرف 2 ہی ریاستیں ایسی ہیں جو کسی نظریہ کی بنیاد پر قائم کی گئیں، پہلی ریاست مدینہ میں حضرت مُحمدﷺ نے قائم کی جبکہ دوسری ریاست "ریاستِ پاکستان" قائم کی گئی اور ان دونوں ریاستوں کی بنیاد "لآ اِلٰہَ اِلاَ اللہُ مُحَمَدُ رَسُولُ اللہِ" بنی،دونوں ریاستوں میں اس بنیادی نظریہ کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھا جاتا ہے۔ خواجہ مُعین الدین چشتیؒ نےفرمایا تھا کہ یہاں ایک "پاک دھرتی" بنے گی اور یہ حقیقیت ہے کہ برِصغیر کے مسلمانوں کے لیے یہ پاک دھرتی بہت ضروری تھی کیونکہ یہاں کے مسلمان کئی سالوں سے دیگر مذاہب کے ماننے والے لوگوں کے ساتھ رہنے پر مجبور تھے اور ان میں زیادہ تر ہندو تھے جن کے رہنے سہنے، جاگنے سونے، ہنسنے رونے اور اور رسمیں منانے کے انداز مسلمانوں سے یکسر الگ تھلگ تھے۔
مسلمان بھائی چارے کے قائل تھے جبکہ ہندو ذاتوں کی تقسیم در تقسیم پر عمل پیرا تھے،مسلمان پیسے کی تقسیم اور پھیلاؤ پر پختہ یقین رکھتے تھےجبکہ ہندو پیسے کو جمع کرتے رہنے کے عادی تھے،،مسلمان مُساوات کے دائمی اصولوں پر عمل پیرا تھے جبکہ ہندو اُونچ نیچ کا دھیان رکھنے کے اصولوں کے پابند تھے،مسلمان ہمدردی کے قائل تھے جبکہ ہندو نفرت و حقارت کے رسیا تھے،مسلمان مہربانی کے ضوابط کو اپنائے ہوئے تھے جبکہ ہندو ظلم و بربریت پر مبنی عوامل سر انجام دیتے رہنے کے قائل تھے لہذٰا مسلمانوں کے لیے ایسے حالات میں "الگ ریاست"کا قیام بہت ضروری تھا نیزجب ایسے حالات پیدا ہوۓتو خداۓ بزرگ و برتر نے برِصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لیے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو اس پاک دھرتی کو آزاد ی دلوانے کے لیے بھیج دیا۔
قائد اعظمؒ نے اپنے رفقا سے مل کر 14 اگست 1947 کو آزاد وطن "پاکستان" کے نام سے بنا ڈالا جہاں اس امر کی اُمیدِ واثق تھی کہ دنیا میں اس دوسرے نمبر پر آفاقی نظریے کی بنیاد پر حاصل کی گئٰ سلطنت میں ہر طرح کی اخلاقی آزادی ہو گی مُعاشی طور پر ہر ہر شخص آزاد ہو گا، مذہبی لحاظ سے کسی بھی قسم کی قدغن نہ ہو گی، جہاں:۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
جیسی فضا ارد گرد پورے معاشرتی نظام میں پائی جائے گی، بھائی چارے کے شاندار ماحول کی پوری دنیا مثال دے گی اور ہر مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کی ابتلا پر کچھ اس طرح بے چین ہو گا کہ:۔
جہاں حضرت عُمر کے دورِ حکومت جیسا عدل ملے گا، جہاں ہمدرد فضائیں ملیں گی، جہاں سچ ہی سچ ہو گا اور سچے کی قدر و قیمت ہو گی،جہاں دیانت و امانت کا بول بالا ہو گا،جہاں ایک دوسرے کے حقوق کو غصب نہیں کیا جائے گا اور جہاں بقول واصف علی واصفؒ ہر سُو "معافی مانگنے اور معاف کر دینے" کا رواج ہوگا۔
وطنِ عزیز کو آزاد ہوئے 72 سال ہو گئے لیکن افسوس وطن کی خاطر قربانیاں دینے والے آباو اجداد کے خوابوں کی تعبیر نہ مل سکی کیونکہ ہم میں سے" اکثریت" ایسے وطیرہ کی حامل ہے کہ ہمیں کچھ نہ کرنا پڑے اور ہماری تمام کی تمام ضروریات پوری ہوتی رہیں، خواہشات پایہ تکمیل کو پہنچتی رہیں،آرزؤں کے پورا ہونے میں کوئی رکاوٹ نہ بنے،ہمیں اپنے وطن کے لیے کچھ نہ کرنا پڑے جبکہ ہمارا پیارا وطن ہمیں اپنی نعمتوں سے نوازتا رہے۔ ہم میں سے"اکثریت" ایسی ہی سوچ کی حامل ہے کہ ہماراوطن ہمیں تحفظ فراہم کرے، ہمارا وطن اپنی دلکش وادیوں سے لطف اندوز ہونے کے بھر پور مواقع فراہم کرے،ہمارے وطن کے چاند کی چاندنی صرف ہمارے لیے ہو،ہمارے وطن کے دریاؤں کی لہروں پہ صرف ہمارا ہی حق ہو،ہمارے وطن کے تمام کے تمام زمینی وآبی وسائل پر صرف ہماری ہی اجارہ داری ہو،ہمارے وطن کا مشرق بھی ہمارا ہو،مغرب بھی ہمارا ہواور وطن کا تو سب کچھ ہمارا ہو لیکن وطن کے لیے ہمیں کچھ نہ کرنا پڑے نیز وطن ایسی"عظیم نعمت" کی افادیت پر ہم میں سے اکثر غور کرنا بھی گوارا نہیں کرتے اور اس عظیم نعمت کی "عطائے خداوندی" کے عوض خدائے بزرگ و برتر کا شکر ادا کرنے سے بھی گریزاں رہتے ہیں،کبھی اپنوں سے گلے،کبھی بیگانوں کی شکائتیں،کبھی سیاستدانوں سے شکوے اور کبھی مذہبی راہنماؤں کے خلاف فتوے لیکن خود کبھی ایسا سوچنے کی زحمت ہی نہں کرتے کہ وہ خود وطنِ عزیز کی بہتری و ترقی کے لیے کیا سوچ رکھتے ہیں، کونسے منصوبے بنانے میں مصروف ہیں اور اپنے حصے کے کتنے چراغ جلانے میں کوشاں و سرگرداں ہیں
سچ تو یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر اس امر سے بے خبر ہیں کہ کسی نعمت کے مل جانے پر خدائے بزرگ و برتر کا شکر ادا کرنے پر اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ:۔
"اگر تم شکر کرو گے تو تم کو زیادہ نعمت دوں گا اور اگر تم نا شکری کرو گے تو(سمجھ رکھو کہ)میرا عذاب بڑا سخت ہے"(سورۃ ابراہیم) ہم سب اہلِ وطن کے لیے یہ امر لازم ہے کہ پاکستان ایسی عظیم نعمت کی"عطائے خداوندی" کے لیے خدائے بزرگ و برتر کے حضور سجدہ ریز ہو کر شکر ادا کرنے کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں تاکہ وطنِ عزیز ہر قسم کی آفات وبلیا ت سے محفوظ رہے۔آمین! ثم آمین


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں