اتوار، 9 اگست، 2020

محبتوں کا صلہ بھلا کون ایسے دیتا ہے

 اِس مادی و فانی دُنیا میں خُدائے بزرگ و برتر نے ہم انسانوں کو کئی ایک رشتوں میں باندھ رکھا ہے۔ہمارے لیےوالدین کا رشتہ، اولاد کا رشتہ، بہن بھائیوں کا رشتہ،بھائی بھائی کا رشتہ،بہن بہن کا رشتہ،ہمسائیگی کا رشتہ اور دیگر رشتوں کے بندھن میں ہم سب انسانوں کو ایک تسبیح کے موتیوں کی طرح پرو دیا ہے نیز ہمارے تمام رشتے،ہمارے تمام بندھن،ہمارے تمام تعلقات اور ہمارے تمام روابط ہمیں احساسِ تخفظ سے سرفراز کرتے ہیں،ہم میں احساسِ ہمدردی اُجاگر کرتے ہیں،ہم میں بھائی چارے کی فضا کو پروان چڑھاتے ہیں،ہم میں احساسِ تفاخر پیدا کرتے ہیں اور ہمارے دلوں میں احساسِ تشکر پیدا کرتےہیں۔ہم انسانوں کے درمیان تمام رشتے اپنی اپنی الگ الگ اہمیت رکھتے ہیں اور رشتوں سے بھری ہوئی اِس دنیا میں دوستی کا رشتہ،دوستی کا تعلق اور اِس دوستی کا ناطہ بھی ایک منفرد مقام کا حامل ہوا کرتا ہے،اِس کائناتِ فانی میں دوستی کے تعلق کو خوشگوار سمجھا جاتا ہے،پائیدار سمجھا جاتا ہے اور اِس تعلق میں ایک دوست دوسرے دوست کے لیے اپنے جذبات قربان کر دیتا ہے،اپنے احساسات قربان کر دیتا ہے،اپنی آرزوئیں قربان کر دیتا ہے،اپنا مال و دولت قربان کر دیتا ہے اور اپنا قیمتی وقت قربان کر دیتا ہے۔

انسانی تاریخ کسی دوست کی دوسرے دوست کی خاطر بے مثال قربانیوں کی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے لیکن سب دوستوں کی اپنے دوستوں کی خاطر قربانیوں میں سب سے اعلیٰ مثال ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ کے پیارے رفیق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ کےرسول ﷺ کے ساتھ دل و جان سے اُنس و محبت رکھتے تھے۔  آپکی دوستی کی عظمت کی حد تو یہ ہے کہ رسولِ پاک ﷺ کی ذاتِ پاک کو نبی ﷺ  کے مقام سے سرفراز کیے جانے کے بعد ہر کسی نے کوئی نہ کوئی سوال کیا یا کوئی نہ کوئی دلیل مانگی لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کسی قسم کی دلیل نہ مانگی حالانکہ جگری دوست ہونے کے باوجود حضورِ پاک ﷺ نے نبوت کے مرتبے سے سرفراز ہونے کا تذکرہ نہیں کیا تھا۔

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نےاپنی زندگی آپ ﷺ کی خدمت و اطاعت میں بسر کر دی،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہُ کی زندگی کا ہر ہر لمحہ اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ جہاں تسلیم ہوتی ہے وہاں تحقیق نہیں ہوتی ہے،جب ہم خدا تعالیٰ کو وحدہ لا شریک تسلیم کرتے ہیں تو تحقیق میں نہیں پڑتے ہیں،جب ہم محمد ﷺ کو آخری نبی ﷺ تسلیم کر لیتے ہیں تو پھر ہم تحقیق میں نہیں پڑتے ہیں اللہ و رسول ﷺ کے احکامات کو تسلیم کر لیتے ہیں تو پھر تحقیق کرنے میں وقت ضائع نہیں کرتے ہیں اور جب ہم جان لیتے ہیں کہ تمام جہانوں کی بھلائی اللہ و رسول ﷺ کے احکامات پر عمل پیرا ہونے میں ہی مضمر ہےتو پھر ہم تسلیم کر لیتے ہیں تحقیق کے پیچھے نہیں پڑتے ہیں۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ "تسلیم و رضا" کی انتہاؤں پر براجمان ہوئے،جنگِ تبوک کی تیاری کے واسطے جب اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ اکرام کو مال و اسباب لانے کا حکم دیا تو حضرت عُمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس نیک عمل میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سبقت لے لینے کا سوچا اور اپنے گھر کا آدھا سامان لے آئے اور آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آمد کا انتظار کرنے لگے اور جب "تسلیم و رضا کے پیکر"حضرت ابوبکر صدیق اپنے گھر کا سارے کا سارا سامان اُٹھا لائے تو اللہ کے محبوب ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا کہ"اے ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ ! اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہیں"تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی کہ:۔

پروانے کو شمع بُلبُل کو پھول بس

صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے خُدا کا رسول ﷺ بس 

پھر جب خُدائے بزرگ و برتر کی طرف سے  آپ ﷺ کو مکّہ سے مدینہ ہجرت کرنے کا عندیہ ملا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺ کے ساتھ روانہ ہونے سے قبل اپنے گھر تشریف لاۓ اور گھر میں سے تمام زیورات اپنے ساتھ لے لیے تاکہ راستے میں ضرورت پڑے تو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ہماری تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ اس دنیا میں واحد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کندھے ایسے کندھے ہیں کہ جنہوں نے آپ ﷺ کی نبوت کا بوجھ سہارا حالانکہ فتح مکہ کے عظیم کامیاب موقع پر حضور ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے کندھوں پر سوار کرکے جاہلیت کے زمانہ کے"قدرے اونچے بتوں" کو تڑوایا جبکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہلے آپ ﷺ سے عرض کی تھی کہ آپ ﷺ انکے کندھوں پر سوار ہو کر اپنے ہاتھوں سے بتوں کو پاش پاش کریں لیکن حضور ﷺ نےفرمایا کہ نہیں،اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! آپ کے کندھے میری نبوت کے بوجھ کو نہیں برداشت کر سکیں گے۔

ہر ذی شعور اِس حقیقت سے بخوبی آشنا ہے کہ یہ حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی"تسلیم و رضا" کا ہی انعام و اکرام ہے کہ اُن کے کندھوں نے نبوت کے بوجھ کو بڑی ہی محبتوں کے ساتھ اُٹھایا اور اس امر کو ثابت کیا کہ محبت خود ہی انداز سکھا دیتی ہے،پھر کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اس کائناتِ ہستی میں امیر وہ ہے کہ جس کے یار وفادار ہیں اور یہ آپ ﷺ کے "یارِ غار" کی تسلیم،رضا،چاہت،محبت اور وفا ہی تھی کہ وہ سانپ جو اللہ کے آخری نبی ﷺ کے دیدار کے لیے آتا ہے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آپ ﷺ کی ذات کے ساتھ "یاری"کو آزماتے ہوئے بار بار ڈستا ہے لیکن آپ اپنی وفاؤں کا ثبوت دیتے ہوئے سانپ کے ڈسنے کے عمل کو برداشت کرتے چلے جاتے ہیں۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تمام زندگی حضور ﷺ کی چاہت ،محبت،وفا اور یاری میں بسر ہوتی گئی اوریہ ازلی و ابدی حقیقت ہے کہ کوئی بھی انسان جس مٹی میں دفن ہوتا ہے وہی مٹی اس کے جسم کو بنانے کے لیے لگائی گئی ہوتی ہے اور ہم مسلمانوں کے راہنماؤں کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق  کی عمرِ مبارک 63 سال ہو گئی تو آپ کے اس جہانِ فانی سے رخصت ہونے کا وقت آگیا اورفرشتہِ اَجل کو لبیک کہتے ہوئے اُسی مٹی میں دفن ہوئے جِس مٹی سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسمِ اطہر کو خُدا تعالی نے بنایا تھا اور یہ وہی مٹی ہے جس میں اللہ کے محبوب ﷺ کی ذاتِ پاک کی مطہر و مقدس ہستی موجود ہیں۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی تمام حیاتِ پاک میں اللہ کے محبوب ﷺ کے ساتھ چاہت نبھائی،محبت نبھائی،اُلفت نبھائی،وفا نبھائی،یاری نبھائی،اور تسلیم و رضا کے پیکر بن کر ہر ہر لمحہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تابعداری و اطاعت میں بسر کیا اور پھر ہم اس حقیقت سے بھی آشنائی رکھتے ہیں کہ جب اللہ نے اپنے محبوب ﷺ کو معراج کے لیے بُلایا تو جبرائیلؑ کی "یاری" سدرۃُ المُنتھٰی تک رہی جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اللہ کے حبیب ﷺ کے ساتھ "یاری"اِس فانی دنیا میں بھی رہی،قبر مبارک میں بھی رہی اور حیاتِ ابدی میں بھی رہے گی نیز اِس ازلی و ابدی محبت و چاہت کو شاعر نے نہایت ہی دلگداز انداز میں یوں بیان کیا ہے کہ ٍ:۔

محبتوں کا صلہ بھلا کون ایسے دیتا ہے

سُنہری جالیوں میں یارِ غار آپ ﷺ سے ہے

               


                                                                   



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

انسانی کردار کی تشکیل

خُدائے بزرگ و برتر نے اس جہانِ فانی میں حضرتِ انسان کو تخلیق کیا ہے اور ہر انسان کو یہاں اپنی زندگی کے "گِنے چُنے " دن گزار کے ...